یوسف حسن
یوسف حسن
منتخب غزلیں
- اسی حریف کی غارت گری کا ڈر بھی تھا
- پہلے میں تیری نظر میں آیا
- تری آواز کیا آنے لگی ہے
- تیرے آفاق بھی ہیں حیرت میں
- دریا تو بل دکھائے گا اپنے بہاﺅ کا
- دل بھرے دیوار و در میں بے نوا کیوں کر ہوا
- رہ گیا جانے کہاں قافلہ قندیلوں کا
- شجر کی چھاﺅں نہ دی، سایہ غبار دیا
- کتنے آفاق ہیں سوال ہمیں
- کتنے پیچ و تاب میں زنجیر ہونا ہے مجھے
- کس تکلف سے ہمیں زیر اماں رکھا گیا
- کیا کہے کوئی کنارے پہ ٹھہرنے والا
- نہیں کہ صرف پرندے اڑا دیے اُس نے
- ہر نظر میں ہے اثاثہ اپنا
- ہرگام شکست جان و تن ہے
- ہم ایک تیری نظر میں بحال ہونے لگے
- ہم جو بے تاب ہیں اپنے گھر میں
