ثمینہ راجا
منتخب نظمیں
- ALPHA STATE
- MUSE
- آخرِ شب
- اب جو آئے ہو تو ٹھہرو مری جاں
- ابھی ایک پَل میں
- اچانک
- اُس کا شکر ہے
- اک رات اجالو میرے لیے
- ایک نگاہ اس طرف
- بارشوں کے بعد
- باغ
- بڑی دیر میں یہ خبر ہوئی
- بس ایک خوابِ بہار
- بہشت
- پھر اُسی معبد
- پیا باج پیالہ پیا جائے نا
- تاج محل
- تم اگر آؤ
- تم مرے دل کی خلش ہو۔۔۔ لیکن
- تم نے کب جانا
- تمہیں کیا خبر
- جنگل
- جنموں کی تقدیر لے کر
- چراغ ہو گئے ہیں ہم
- حیران
- سالگرہ
- سب سلامت رہیں
- سحرِ سامری
- سزا
- شبِ ستارہ ساز کو خبر نہیں
- عجب نیند تھی
- عدن
- عشق
- غم کی پہلی بہار میں
- کھلی ہوئی کھڑکیوں سے اک شام جھانکتی ہے
- کوئی تالی بجاتا ہے
- کون ہے یہ
- گناہ گار
- لمس زندہ رہے
- مجھے نیا طلسم دے
- میری بھی اک زندگی ہے
- میں تمہارے فسانے میں داخل ہوئی
- نہیں ۔۔۔ واقعہ تو نہیں ہم
- ہوائیں
- ہویدا
- وطن کے لئے
- وہ شام ذرا سی گہری تھی
- یہ عشقِ سپہر رنگ میرا
- یہ مسافر
منتخب غزلیں
- اب پھول چنیں گے کیا چمن سے
- ازل سے ، ساتھ کوئی راز آشنا تو نہیں
- اک شمعِ کمالِ سر خوشی ہوں
- خوش ہوں کہ تیرے غم کا سہارا مجھے ملا
- خوشبو کے ساتھ اس کی رفاقت عجیب تھی
- دوستی دشمنی ایک ہی شخص سے ، وہ ہی دلدار ہے وہ ہی قاتل مرا
- سفر آغاز کِیا کیا کہ سسکنے لگی ریت
- عشق دریا ہے تو آئے لبِ ساحل آئے
- غروبِ شام سے پہلے پلٹ کر اپنے گھر آئے
- کھل رہی ہے رفتہ رفتہ زلف شام یاد پھر
- کیسے نہ رنگِ رُخ نظر آئے اُڑا ہوا
- گو سایۂ دیں پناہ میں ہوں
- موسمِ زرد کا ٹوٹا ہے حصار آخرِ کار
- ہر منزل پر ایک نیا دریا ملتا ہے
- ہمت مرا دل جو کھو رہا ہے
- یارب! لبِ خموش کو ایسا جمال دے
