سعد اللہ شاہ
منتخب نظمیں
- ایک نظم-2
- اے مری قوم کے جاں باز جوانو!
- اے ہم نفس بتا تو۔ ۔ ۔
- بہتے پانی میں پھول
- بے صدا آہٹ
- تُو
- تیری مرضی
- جمالِ ہم نشیں در من اثر کر د
- دعا
- ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے
- زندہ رہو پائندہ رہو
- سلام
- کاش
- مجھ کو چین نہیں ہے
- وہ جو تم کو یاد نہیں ہے
- وہ لڑتے ہیں
- وہ ہے بارش تو میں سمندر ہوں
- یاد
منتخب غزلیں
- آ پڑی ہم پہ کوئی ایسی بھی افتاد نہیں
- آج جو تجھ سے ملا ہے، کل جدا ہو جائے گا
- اب تک وہی خیال تمہارا ہے اور بس
- اب وفا اور جفا کچھ بھی نہیں
- اپنا انجام ہوا جاتا ہے
- اپنے ہونے کا یقیں چاہتے ہیں
- اجنبی بن کے گزر جاتے تو اچھا ہوتا
- اک تعلق مجھے نبھانا تھا
- ایسے لگتا ہے یہی قوم کے غم خوار ہیں بس
- ایک جگنو ہی سہی، ایک ستارا ہی سہی
- ایک وسعت کی طلب ہے مری بینائی کو
- بس ایک حد پہ پہنچ کر یہ قصہ پاک ہوا
- بس ایک کام ہے باقی، جو کرنا چاہتا ہوں
- پھر وہی رنجِ ندامت ہے، پریشانی ہے
- جب کوئی غم مجھے ستاتا ہے
- جب وہ یاد آتا ہے بارشوں کے موسم میں
- جو قدم تک اٹھا نہیں سکتے
- جو میں نے چاہا تھا، ہو جائے، وہ ہوا تو نہیں
- جو ہڈیوں سے مری بام و در بناتا ہے
- چاند بے نور ہوا بادل میں
- چلنے سے ہے کام ہمیں
- خطۂ پاک بچانا ہی پڑے گا ہم کو
- خوف کیوں آئے اجل سے ہم کو
- داؤ پہ اپنی ساری کرامات مت لگا
- ذرا یہ سوچ، تری روشنی سے آگے ہے
- رِہِ وفا میں جلا آستاں ہی دیکھ آئیں
- زمیں پہ بیٹھ کے ہم آسماں کا سوچتے ہیں
- زندگی ڈر کے نہیں ہوتی بسر، جانے دو
- سانحہ در سانحہ ہر واقعہ ہونا ہی تھا
- سنا ہے وہ بھی لکھے گا ہمارے بارے میں
- طلسمِ حسنِ سخن سے شجر بناتا ہے
- عروج اپنا ترے نام انتساب کیا
- فکرِ انجام کر انجام سے پہلے پہلے
- کالے کوٹوں کے عَلم نکلیں گے
- کس طرح پاک ہوئے اشک بہانے والے
- کہنے کو اپنے پاس کوئی کام بھی نہیں
- گھر بچانے سے ہٹ کے سوچتے ہیں
- مثالِ ذرّۂ بے مایہ لختِ صحرا ہوں
- میرے خوابوں میں چاند اتارا گیا
- میں تھا مصروف ابھی خونِ جگر پینے میں
- میں خواب سے آگے کا سفر مانگتا ہوں
- نہیں ہے یوں کہ مقدّر پہ اپنے پچھتائیں
- وہ ہوائے تند تھی، اس کو خفا ہونا ہی تھا
- یہ دل اب رنگ دکھلانے لگا ہے
- یہ فراغت مجھے نہیں ہے راس
