رفیع رضا
منتخب نظمیں
- آخری نظم
- حقیر نظم
- خُداؤں کے درمیان
- سویا تو مَیں زماں سے بھی آگے نکل گیا
- عظیم نظم ابھی نہیں لکھی گئی!
- علی زریون کے نام
منتخب غزلیں
- آ ملی شہر سے حد دل کی بیابانی کی
- آنا جانا ہے تو قامت سے تُم آؤ جاؤ
- آنکھ سہمی ہوئی ڈرتی ہوئی دیکھی گئی ہے
- اب تک جو اعتبار میں آیا نہیں ہے تُو
- اپنی آواز گنوانے کی ضرورت نہیں ہے
- ارے او واعظا! دھمکا رہا ہے کیا
- اسے مَیں کیا کروں مَیں اس سے بہتر چھوڑ آیا ہوں
- اگرچہ وقت مناجات کرنے والا تھا
- اور اب سنوارنے آئے اُجاڑنے والے
- اوروں نے جب زمیں کو وراثت میں لے لیا
- اوڑھ کر خاک پہ کُچھ آب و ہوا پھرتا ہوں
- ایک اس عُمر کا ہی کاٹنا کافی نہیں کیا
- ایک دیوار ہے دیوار سے اُونچا ہونا
- ایک مجذوب اُداسی میرے اندر گُم ہے
- اے حُسنِ بے مثال! تُجھے کیا مثال دُوں
- اے وقت کے امام کہیں میں نہ چل بسوں
- بات کی اس قدر کھری اک دن
- بُجھتے بُجھتے ، جلا کے آتش کو
- بچی کھُچی ہوئی اپنی صدا اُٹھاتا ہوں
- بڑھتی ہوئی ہر روز کی وحشت سے گِرے گا
- بڑی نازک ہے محبت کی لڑی رہنے دے
- بڑے جتن سے اکٹھا ہوا مرا چہرہ
- بس آنکھ لایا ہوں اور وُہ بھی تَر نہیں لایا
- بس اس میں کوئی آگ ہی سونے کی طرح ہے
- بھاڑ میں جائے دُنیا داری، بھاڑ میں جائیں لوگ
- بہت بُرا ہُوں! کسی کا بُرا نہ کر پایا
- بہت ہی جاودانی لگ رہی ہے
- پاؤں پہ اپنے آپ کھڑا ہو رہا ہوں میں
- پیڑ سُوکھا حرف کا اور فاختائیں مر گئیں
- تُجھ الاؤ سے جو باہر کو لپکنے لگا ہوں
- تُمھارے ہجر کی ساعت نکال پھینکوں گا
- تنِ تنہا کسی سے لڑنا ہے
- تُو بھی مذہب بدست لگتا ہے
- تُو خُود ہی دیکھ دستِ قضا! تُو نے کیا کیا
- تُو لو پذیر نہیں ہے تو جا رہا ہوں میں
- تیری خاطر ترے اسباب کو چھوڑ آیا ہوں
- جا! مرا انہدام ہونے دے
- جانے یہ صرف مری کور نگاہی کوئی ہے
- جس طرف آنکھ اُٹھاتا ہوں اُدھر مٹی ہے
- جہان بھر کو بہت ہی انوکھا تُحفہ دیں
- جو آنسوؤں کا کبھی اُس کے ہاں شُمار ہوا
- جو اتنا خاک کو میں نے اُچھال رکھا ہے
- جو دن کے ساتھ نکل کر غروب ہوتا ہوں
- جو کائنات مری کُچھ دنوں سے روشن ہے
- جو لمحہ لمحہ یہاں سے گُزر رہا تھا وُہ
- جو مُجھ کو گھیر رہا ہے وُہ ڈر نکال نہ دُوں
- جو ہر کسی سے نئی دھمکیاں ملی ہوئی ہیں
- جیسے گرے ہُوئے پہ مکاں ٹوٹ کر گرے
- چاروں طرف سے بند ہوں خطرہ نہیں گیا
- چاک پر ایسے میرا سر گھُوما
- چراغ پہلے سے بھی معتبر بنا ہوا ہے
- حدِ بستر پہ سرکتی ہُوئی پرواز لکھی
- حد کوئی توڑ کے وحشت نے نکل جانا ہے
- حرف کیا ہے ! تُجھے نہیں معلوم
- خدائے سبز مری زرد خاک دیکھنے آ
- خواب میں یا خیال میں مُجھے مِل
- خُوش گُمانی میں بول بیٹھا ہوں
- دشتِ طلب میں پھول کھلانے لگی ہو تُم
- دُعائیں پڑھتے ہُوئے اس بَدن سے نکلوں گا
- دل سے کانٹا نہ عُمر بھر نکلا
- دل کو بہتر بنا لیا جائے
- دل لرزتا ہے خستہ زینے کا
- دن کے اُجلے سفید تن سے ہوا
- دُھواں دُھواں ہی سہی آگ کا نشان تو ہے
- دو جہاں مست اپنے میلے میں
- دُور تک ہاتھ ہلاتے ہُوئے لوگوں سے ملے
- دیوار ہی نہیں ہے تو در دیکھتا ہے کیا
- ذرا سی بات پہ تاؤ میں آ گیا ہوں میں
- رات مَیں شانۂ ادراک سے لگ کر سویا
- زرد میں خُون جلانے سے ہوا
- زمین روک رہی ہے اُکھڑ رہا ہے کوئی
- زمیں کا بوجھ اور اُس پر یہ آسمان کا بوجھ
- زمیں کے ساتھ مرا دل جھگڑتا رہتا ہے
- زمیں و آسماں کا کیا کیا جائے
- زندگی جتنی اذیت سے کئے جاتا ہوں
- زندوں کو زندہ گاڑ کے کہتا ہے خوش رہو
- سکۂ ہجر کہیں اور چلاؤجاؤ!
- سمجھ رہی ہے جو دُنیا، نہیں سمجھتا مَیں
- سُن اے فلک مَیں تری خامشی سے ڈرتا ہوں
- سوال یہ تو نہیں لکڑی جل رہی ہے کوئی
- سُورج سا کوئی شام سے پہلے ہی گر گیا
- عشق میں کم کوئی شدت نہیں کی جا سکتی
- غزل کو یاروں نے حُجرہ بنا لیا ہوا ہے
- غیب کا ہاتھ مرے ہاتھ میں آ سکتا ہے
- کبھی آتش کبھی مٹی کبھی پانی سے نکل
- کبھی جو خاک کی تقریبِ رُو نُمائی ہوئی
- کتاب سبز پہ رکھ اک گُلاب اور نکل
- کُچھ اور ہی ہے آنکھ میں بینائی سے آگے
- کُچھ نہ کُچھ ہونے کا یہ ڈر نہیں جانے والا
- کُچھ نہ کُچھ ہونے کا یہ ڈر نہیں جانے والا
- کرتا رہُوں گا حمد و ثناء سخت کافرم
- کرتی تھی روز آہ و فُغاں ، کھینچ لی گئی
- کس کو درکار ہوں مٹی کی طرح
- کسی صُورت بُلا ہی لیتی ہے
- کُشادگی مرے شُعلے کے تھرتھرانے کی
- کھُلتا ہے یہ دشت آنکھ جھپکنے کے برابر
- کھنکھناتی ہوئی ہنسی نہ رہی
- کوئی آفت ہے،مُصیبت ہے تو آؤ آؤ
- کوئی عذاب کوئی سانحہ ملاتا ہے
- کون کہتا ہے کہ ایمان سے ڈر لگتا ہے
- کون کہتا ہے کہ مقدار سے باندھا ہوا ہوں
- کیا خواب مری آنکھ میں مرنے کے لئے ہے
- کیا کُچھ یہاں راضی بہ رضا چھوڑنا پڑ جائے
- کیا کسی کارِ ضرورت میں یہاں آئے ہو
- کیا وقت سے پہلے ہی ثمر کاٹ کے دے دُوں
- گرتے ہُوئے ملبے میں ستارہ تو نہیں ہے
- گُل دان میں سجائے ہیں کانٹے بطورِ خاص
- گُلِ سیاہ کِھلا ہے سو دیکھنا کیا ہے
- گُلِ سیاہ کِھلا ہے سو دیکھنا کیا ہے
- لایا ہوں بھرا آنکھ کا کاسہ ترے آگے
- لڑائی زور کی تھی جھنڈا گاڑ کر نکلا
- لگا کے زخم وُہ کُچھ اور کام کرنے لگا
- لگتے ہی زخم اگرچہ مَیں بھرنے میں لگ گیا
- لمبا سفر ہے ہلکا سا سامان چاہیئے
- مُجھے بیان کیا جا رہا تھا مٹی پر
- مُجھے جانا ہے مَیں تاخیر نہیں کر سکتا
- مرا گُمان مرا پہلا دین ہونے لگا
- مرے پروں سے جو پر گیا ہے
- مرے وجود سے تیرا نظارہ ممکن ہے
- مُستند نُسخۂ قُرآن میں تحریف نہ کر
- میرا ایمان کس ایمان سے کم ہے پیارے
- میری مُٹھی میں سنگ باقی ہے
- میری وارفتگی سے دل نہ بھرا
- میرے وہم و گُمان میں بھی نہیں
- مَیں اپنی آنکھ کو اس کا جہان دے دُوں کیا
- میں پھر ملوں گا مُجھے آسماں پکڑنا ہے
- میں جی رہا ہوں ترے معجزے کے ہونے سے
- مَیں جیتنے سے نہیں ہارنے سے ڈرتا تھا
- میں نے رضا جو اتنی اُجالی ہوئی ہے آنکھ
- میں نے لیا ہے آنکھ میں بھر اتنا آسمان
- نظر کے ساتھ میں منظر اُٹھا کے آتا ہوں
- نقدیِ نُور سے پائی نہیں دیتا سائیں
- نہ کُچھ کر کے جو مَر جانا ضروری ہو گیا ہے
- نہیں کہ آنکھ میں پانی ذرا زیادہ ہے
- ہٹو یہاں سے میاں! کوئی اور کام کرو
- ہمارے نام سے مشہور ہو رہے ہیں میاں
- ہو جائے جسم، عشق پہ آسان اس کے بعد
- ہوائے تیز ابھی تیرا کام رہتا ہے
- واپس آتی ہوئی ہوائی کا
- وحشت میں نکل آیا ہوں ادراک سے آگے
- ورق کتابِ ازل کا پلٹنے والا ہے
- وُسعتِ شرم کو اندوہِ ندامت لکھا
- وُہ تھک نہ جائے کہیں اُس کا ڈر لگا ہوا ہے
- وُہ جب بھی آتا ہے باہر سے ہو کے جاتا ہے
- وُہ جو مُجھ سے پرے کا عالم ہے
- وُہ علمِ کُل ہے خطا بھی ضرور دیکھتا ہے
- یہ آئینہ مُجھے دیوار میں لگانا ہے
- یہ بات طے ہے رضا جب تُو دھیان کھولے گا
- یہ جو اتنا لو سے لو کا فاصلہ رکھا گیا
- یہ خُود کشی سے کوئی ماورا پرندہ ہے
- یہ سارا عہد جو میرے خلاف نکلا ہے
- یہ کیا جگہ ہے آگ کا بازار ہے کہاں
- یہ میری لَو ہے جو سب کو دِکھا رہا ہے تُو
- یہ میں مثال ہوا یا ، دیا مثال ہوا
- یُوں بات بات پہ کر کے مکالمہ مُجھ سے
- یُوں درمیاں میں اپنا بدن آ گیا تمام
