پروین شاکر
پروین شاکر 24 نومبر 1954 ء کو پاکستان کے کراچی میں پیدا ہوئیں۔ آپ کو اردو کی منفرد لہجے کی شاعرہ ہونے کی وجہ سے بہت ہی کم عرصے میں وہ شہرت حاصل ہوئی جو بہت ہی لوگوں کو ہوتی ہے ۔انگلش لٹریچر اور زبانی دانی میں گریجوایشن کیا اور بعد میں انہی مضامین میں جامعہ کراچی سے ایم کی ڈگری حاصل کی ۔ پروین شاکر استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں اور پھر بعد میں آپ نے سرکاری ملازمت اختیار کر لی ۔ سرکاری ملازمت شروع کرنے سے پہلے نو سال شعبہ تدریس سے منسلک رہیں، اور 1986ء میں کسٹم ڈیپارٹمنٹ ، سی۔بی۔آر اسلام آباد میں سیکرٹری دوئم کے طور پر اپنی خدمات انجام دینے لگیں۔1990میں ٹرینٹی کالج جو کہ امریکہ سے تعلق رکھتا تھا تعلیم حاصل کی اور 1991ء میں ہاورڈ یونیورسٹی سے پبلک ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ 26 دسمبر 1994ء کو ٹریفک کے ایک حادثے میں اسلام آباد میں انتقال ہوا۔ انکی شاعری کا موضوع محبت اور عورت ہے۔
منتخب نظمیں
- آئینہ
- آج کی رات
- آج کی شب تو کسی طور گُزر جائے گی!
- آزمائش
- آشیر باد
- آنچل اور بادبان
- آنے والی کل کا دُکھ
- اپنی زمین کے لیے ایک نظم
- اِتنا دھیان رکھنا
- اِتنا معلوم ہے
- اتنے اچھے موسم میں
- اجنبی
- اِحتساب
- احتیاط
- احساس
- اس کے مسیحا کے لیے ایک نظم
- اُس وقت
- اسٹیل ملز کا ایک خصوصی مزدور
- اِسم
- اعتراف
- اُلجھن
- الوداعیہ
- امَر
- اندیشہ ہائے دُور دراز
- اوتھیلو
- ایک اداس نظم
- ایک بُری عورت
- ایک دوست کے نام
- ایک مشکل سوال
- ایکسٹیسی
- بائیسویں صلیب
- بارش میں
- بچپنا
- بس اِتنا یاد ہے
- بسنت بہار کی نرم ہنسی
- بنفشے کا پھُول
- بے بسی
- پرزم
- پروردہ
- پکنک
- پہرے
- پہلے پہل
- پوربی پردیسی کب آؤ گے؟
- پیار
- پیش کش
- پیش کش
- تشکر
- تعبیر
- تُمھارا رویہ
- تنقید اور تخلیق
- توقع
- تیری ہم رقص کے نام
- جان پہچان
- جیون ساتھی سے
- چاند
- چاند رات
- خُدا سے
- خلش
- خواب
- خُود سے مِلنے کی فُرصت کسے تھی
- خود کلامی
- خُوشبو کی زباں
- دعا
- دل کی ہنسی
- دھُوپ کا موسم
- دھیان
- دوست
- دوست چڑیوں کے لیے کچھ حرف
- ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں
- ڈیوٹی
- رات کی رانی کی خوشبو سے کوئی یہ کہہ دے
- رّدِ عمل
- رفاقت
- رقص
- زمیں پہ جب کسی نئے وجُود نے جنم لیا
- ساتھ
- سرشاری
- سُکھ کے موسم کا دُکھ
- سمندر کی بیٹی
- شرط
- شہرِ چارہ گراں
- صرف ایک لڑکی
- ضِد
- عیادت
- فاصلے
- فلاور شو
- کانچ کی سُرخ چوڑی
- کتبہ
- کتنی دیر تک
- کتھا رس
- کرنوں کے قدم
- کشف
- کن رس
- کنگن بیلے کا
- کیا کیا دکھ دل نے پائے
- گئے جنم کی صدا
- گمان
- گوری کرت سنگھار
- لڑکیاں اُداس ہیں
- لیکن
- لیلۃ الصّک
- مجبوری
- مری دعا ترے رخشِ صبا خرام کے نام
- مس فٹ
- مسئلہ
- مشترکہ دُشمن کی بیٹی
- مشورہ
- مفاہمت
- مقدر
- مورنی
- موسم
- موسم کی دُعا
- نئی آنکھ کا پُرانا خواب
- نئی رات
- ناٹک
- نن
- ننھے دوست کے نام ایک نظم
- نہ کوئی عہد، نہ پیمان
- نوید
- نیا دُکھ
- واٹر لُو
- وہ آنکھیں کیسی آنکھیں ہیں ؟
- وہ صورت آشنا میرا
- وہی نرم لہجہ
- ویسٹ لینڈ
منتخب غزلیں
- آج ملبوس میں ہے کیسی تھکن کی خوشبو
- آنکھوں سے میری، کون مرے خواب لے گیا
- آنگنوں میں اُترا ہے بام و در کا سناٹا
- اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کھِل چُکا
- اب کون سے موسم سے کوئی آس لگائے
- اب کیا ہے جو تیرے پاس آؤں
- اب کیسی پردہ داری ، خبر عام ہو چکی
- اپنی رسوائی، ترے نام کا چرچا دیکھوں
- اپنی ہی صدا سُنوں کہاں تک
- اُسی طرح سے ہر اِک زخم خوشنما دیکھے
- اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقفِ حال تھا
- اشک آنکھ میں پھر اٹک رہا ہے
- بارش ہُوئی تو پھُولوں کے تن چاک ہو گئے
- بجا کہ آنکھوں میں نیندوں کے سلسلے بھی نہیں
- بس یہ ہُوا کہ اُس نے تکلّف سے بات کی
- بعد مُدت اُسے دیکھا، لوگو
- پانی پر بھی زادِ سفر میں پیاس تو لیتے ہیں
- پانیوں پانیوں جب چاند کا ہالہ اُترا
- پھر چاکِ زندگی کو رفوگر ملا کہاں
- پھر مرے شہر سے گزرا ہے وہ بادل کی طرح
- پھُول آئے ، نہ برگِ تر ہی ٹھہرے
- پُورا دکھ اور آدھا چاند!
- تتلیوں کی بے چینی آ بسی ہے پاؤں میں
- تجھ سے تو کوئی گلہ نہیں ہے
- تمام رات میرے گھر کا ایک در کھُلا رہا
- تمام لوگ اکیلے، کوئے رہبر ہی نہ تھا
- تیرا گھر اور میرا جنگل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ
- جانے پھر اگلی صدا کِس کی تھی
- جب ہوا تک یہ کہے ، نیند کو رخصت جانو
- جستجو کھوئے ہُوؤں کی عُمر بھر کرتے رہے
- چارہ گر، ہار گیا ہو جیسے
- چاند اُس دیس میں نکلا کہ نہیں!
- چاند میری طرح پگھلتا رہا
- چراغِ راہ بُجھا کیا ، کہ رہنما بھی گیا
- چراغِ ماہ لیے تجھ کو ڈھونڈتی گھر گھر
- چراغ میلے سے باہر رکھا گیا وہ بھی
- چھُونے سے قبل رنگ کے پیکر پگھل گئے
- چہرہ میرا تھا، نگاہیں اُس کی
- حلقۂ رنگ سے باہر نکلوں
- خُوشبو بھی اس کی طرزِ پذیرائی پر گئی
- خوشبو کی ترتیب ، ہَوا کے رقص میں ہے
- خوشبو ہے وہ تو چھُو کے بدن کو گزر نہ جائے
- خیال و خواب ہُوا برگ و بار کا موسم
- دروازہ جو کھولا تو نظر آئے وہ کھڑے وہ
- دستِ شب پر دکھائی کیا دیں گی
- دسترس سے اپنی،باہر ہو گئے
- دشمن ہے اور ساتھ رہے جان کی طرح
- دُعا کا ٹوٹا ہُوا حرف، سرد آہ میں ہے
- دُکھ نوشتہ ہے تو آندھی کو لکھا! آہستہ
- دل پہ اِک طرفہ قیامت کرنا
- دل و نگاہ پہ کس طور کے عذاب اُترے
- دن ٹھہر جائے، مگر رات کٹے
- دنیا کو تو حالات سے امید بڑی تھی
- دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
- ذرے سرکش ہُوئے ، کہنے میں ہوائیں بھی نہیں
- ڈھونڈا کیے ہاتھ جگنوؤں کے
- رات کے زہر سے رسیلے ہیں
- رقص میں رات ہے بدن کی طرح
- رنگ ، خوشبو میں اگر حل ہو جائے
- زمیں کے حلقے سے نکلا تو چاند پچھتایا
- زندگی سے نظر ملاؤ کبھی
- سبز موسم کی خبر لے کے ہَوا آئی ہو
- سرگوشی بہار سے خوشبو کے در کھلے
- سکوں بھی خواب ہُوا، نیند بھی ہے کم کم پھر
- سما کے ابر میں ، برسات کی اُمنگ میں ہُوں
- سمندروں کے اُدھر سے کوئی صدا آئی
- سناّٹا فضا میں بہہ رہا ہے
- سوچوں تو وہ ساتھ چل رہا ہے
- شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے
- شدید دُکھ تھا اگرچہ تری جُدائی کا
- شوقِ رقص سے جب تک انگلیاں نہیں کھلتیں
- صیّاد تو امکان سفر کاٹ رہا ہے
- عذاب اپنے بکھیروں کہ مُرتسم کر لوں
- عکس خوشبو ہوں ، بکھرنے سے نہ روکے کوئی
- عکسِ شکستِ خواب بہر سُو بکھیرے
- عُمر بھر کے لیے اب تو سوئی کی سوئی ہی معصوم شہزادیاں رہ گئیں
- قریۂ جاں میں کوئی پھُول کھِلانے آئے
- کچھ دیر کو تجھ سے کٹ گئی تھی
- کچے زخموں سے بدن سجنے لگے راتوں کے
- کمالِ ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی
- کِن لکیروں کی نظر سے ترا رستہ دیکھوں
- کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
- کہاں آرام لمحہ بھر رہا ہے
- کُو بہ کُو پھیل گئی بات شناسائی کی
- کیا ڈوبتے ہَوؤں کی صدائیں سمیٹتیں
- کیا کیا نہ خواب ہجر کے موسم میں کھو گئے
- کیسی بے چہرہ رُتیں آئیں وطن میں اب کے
- کیسے چھوڑیں اسے تنہائی پر
- کیسے کیسے تھے جزیرے خواب میں
- گئے موسم میں جو کھِلتے تھے گلابوں کی طرح
- گرد چہرے پر قبائے خاک تن پر سج گئی
- گلاب ہاتھ میں ہو ، آنکھ میں ستارہ ہو
- گونگے لبوں پہ حرفِ تمنا کیا مجھے
- لمحات وصل کیسے حجابوں میں کٹ گئے
- متاعِ قلب و جگر ہیں ،ہمیں کہیں سے ملیں
- مٹّی کی گواہی خوں سے بڑھ کر
- مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے
- من تھکنے لگا ہے تن سمیٹے
- منظر ہے وہی ٹھٹک رہی ہوں
- موسم کا عذاب چل رہا ہے
- میں جگنوؤں کی طرح رات بھر کا چاند ہُوئی
- نظر کی تیزی میں ہلکی ہنسی کی آمیزش
- نم ہیں پلکیں تری اے موجِ ہَوا،رات کے ساتھ
- نہ قرضِ ناخنِ گُل ، نام کو لُوں
- نیم خوابی کا فسوں ٹوٹ رہا ہو جیسے
- نیند تو خواب ہو گئی شاید
- نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاں
- ہتھیلیوں کی دُعا پھول لے کے آئی ہو
- ہم سے جو کُچھ کہنا ہے وہ بعد میں کہہ
- ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
- ہوا سے جنگ میں ہوں ، بے اماں ہوں
- ہوا کی دھُن پر بن کی ڈالی ڈالی گائے
- وہ تو خوشبو ہے ، ہواؤں میں بکھر جائے گا
- وہ جب سے شہر خرابات کو روانہ ہُوا
- وہ جس سے رہا آج تک آواز کا رشتہ
- وہ رُت بھی آئی کہ میں پھول کی سہیلی ہوئی
- وہ عکسِ موجۂ گل تھا، چمن چمن میں رہا
- وہی پرند کہ کل گوشہ گیر ایسا تھا
- ویسے تو کج ادائی کا دُکھ نہیں سہا
- یا رب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
- یاد کیا آئیں گے وہ لوگ جو آئے، نہ گئے
- یہ غنیمت ہے کہ اُن آنکھوں نے پہچانا ہمیں
- یوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھا
