عبید اللہ علیم
عبید اللہ علیم
منتخب نظمیں
- آئیڈیل
- آخری رات تھی وہ
- اداس یادوں کی رات
- بچھڑ گیے تو۔۔۔
- تم ایسی محبت مت کرنا
- جنم جنم کی اذیت
- چاند چہرہ، ستارہ آنکھیں
- رائیگاں
- سب چھاؤں دھوپ کی آنکھیں ہیں
- سچا جھوٹ
- کرب کی خونچکاں آیتیں
- کہیں دور ہے مکاں میرا
- کوئی پیاس کہیں رہ جاتی ہے
- محبّت
- میرا وطن
- میں تو بادل اور خوشبو ہوں
- میں وہ شجر تھا
- وجود اپنا مجھے دے دو
منتخب غزلیں
- آؤ تم ہی کرو مسیحائی
- اب تک وہی خواب ہیں وہی میں
- اب تُو ہو کسی رنگ میں ظاہر تو مجھے کیا
- اک خواب ہے اور مستقل ہے
- اے روح قطرہ قطرہ پگھل آپ کے لیے
- بنا گلاب تو کانٹے چبھا گیا اِک شخص
- پا بہ زنجیر سہی زمزمہ خواں ہیں ہم لوگ
- تم اصل ہو یا خواب ہو تم کون ہو
- تیرے پیار میں رُسوا ہو کر جائیں کہاں دیوانے لوگ
- جو کون و مکاں میں جل رہا ہے
- جوانی کیا ہوئی اِک رات کی کہانی ہوئی
- جی جان سے اے ارضِ وطن مان گئے ہم
- چھُو کے جب خواب سا بدن آیا
- چہرہ ایسا شمع جیسے انجمن پہنے ہوئے
- خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں
- خواب ہی خواب کب تلک دیکھوں
- خورشید بکف کوئی کہاں ہے
- خوشا وہ دور کہ جب تجھ سے رسم و راہ نہ تھی
- خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی
- خیال و خواب ہوئی ہیں محبتیں کیسی
- دل دعا اور دکھ دیا نہ ہوا
- ربطِ غم اور خوشی ہی ٹوٹ گیا
- شکستہ حال سا بے آسرا سا لگتا ہے
- عذاب آئے تھے ایسے کہ پھر نہ گھر سے گئے
- عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
- غم کا علاج دکھ کا مداوا کر ے کوئی
- کچھ دن تو بسو مری آنکھوں میں
- کچھ عشق تھا کچھ مجبوری تھی سو میں نے جیون وار دیا
- کس خواب کی یہ ہم کو تعبیر نظر آئی
- کل بھی ہم کم کم سہی ملے تو تھے
- کوئی دھُن ہو میں ترے گیت ہی گائے جاؤں
- کوچہ عشق سے کچھ خواب اٹھا کر لے آئے
- گوارا موسمِ گل میں بھی کب تھی رسوائی
- محبتوں کے سفر میں نگر نہیں آتے
- محبتوں کے یہ دریا اتر نہ جائیں کہیں
- مرے خدا مجھے وہ تابِ نے نوائی دے
- ملے ہو تم تو بچھڑ کر اداس مت کرنا
- میں جس میں کھو گیا ہوں مرا خواب ہی تو ہے
- میں کیسے جیوں گر یہ دنیا ہر آن نئی تصویر نہ ہو
- میں یہ کس کے نام لکھّوں جو الم گزر رہے ہیں
- نگار صبح کی امید میں پگھلتے ہوئے
- نہ منزل سامنے آئی نہ رستے کو حجاب آیا
- نوروں نہلائے ہوئے قامتِ گلزار کے پاس
- نیند آنکھوں سے اُڑی پھول سے خوشبو کی طرح
- وحشتیں کیسی ہیں خوابوں سے الجھتا کیا ہے
- وہ خواب خواب فضائے طرب نہیں آئی
- یہ اور بات کہ اس عہد کی نظر میں ہوں
