نوشی گیلانی
منتخب نظمیں
- آخری خواہش
- انحراف
- بشارت
- بے نام اُلجھن
- تُم سے کُچھ نہیں کہنا
- تہمتیں تو لگتی ہیں
- خواب
- شامِ تنہائی میں
- ضمیرِ عالمِ انسانیت
- کوئی نظم ایسی لکھوں کبھی
- محّبت کم نہیں ہو گی
- محّبت یاد رکھتی ہے
- نا دیدہ رفاقت میں
- ورثہ
- یہ گئے دنوں کا ملال ہے
منتخب غزلیں
- آئندہ کبھی اس سے محّبت نہیں کی جائے
- اب اپنے فیصلے پر خُود اُلجھنے کیوں لگی ہوں
- اَب کس سے کہیں اور کون سُنے جو حال تمُھارے بعد ہُوا
- اب یہ بات مانی ہے
- اشک اپنی آنکھوں سے خُود بھی ہم چھُپائیں گے
- اِک پشیمان سی حسرت سے مُجھے سوچتا ہے
- اندیشوں کے شہر میں رہنا پڑ جائے گا
- بدن کی سرزمین پر تو حکمران اور ہے
- بس اپنے ساتھ رہنا چاہتی ہوں
- بند ہوتی کتابوں میں اُڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
- بہت تاریک صحرا ہو گیا ہے
- پلٹ کر پھر کبھی اُس نے پُکارا ہی نہیں ہے
- پُوچھ لو پھُول سے کیا کرتی ہے
- تجھ سے اب اور محّبت نہیں کی جا سکتی
- تُمھیں خبر ہی نہیں کیسے سر بچایا ہے
- جانے کیسے سنبھال کر رکھّے
- چُپ نہ رہتے بیان ہو جاتے
- حصارِ لفظ و بیاں میں گُم ہوں
- حیرت
- خامشی سے ہاری میں
- دُشمنِ جاں کئی قبیلے ہُوئے
- دل تھا کہ خُوش خیال تجھے دیکھ کر ہُوا
- دل کی منزل اُس طرف ہے گھر کا رستہ اِس طرف
- راستوں میں رہے نہ گھر میں رہے
- عشق کرو تو یہ بھی سوچو عرض سوال سے پہلے
- عُمر رائیگاں کر دی تب یہ بات مانی ہے
- قبولیت کا گِلہ نہیں ہے
- کُل اثاثہ تھا اِک دِیا لوگو
- کون بھنور میں ملّاحوں سے اب تکرار کرے گا
- کون روک سکتا ہے
- کیا بتائیں کیوں دئیے د مساز نے
- گُریز شب سے سحر سے کلام رکھتے تھے
- لُطف سو گواری میں
- لفظ بھی کوئی اس کا ساتھ نہ دیتا تھا
- لہُو تک آنکھ سے اَب بہہ لیا ہے
- مُجھ کو رُسوا سرِ محفل تو نہ کروایا کرے
- مُجھے موت دے کہ حیات دے
- منفرد سا کوئی پیدا وہ فن چاہتی ہے
- موت سے مُکر جائیں
- میری آنکھوں کو سُوجھتا ہی نہیں
- میں کن لوگوں میں ہوں کیا لکھ رہی ہُوں
- ہجر کی شب میں قید کرے یا صُبح وصَال میں رکھے
- ہر اِک لمحہ نیا اِک امتحاں ہے
- ہر جانب ویرانی بھی ہو سکتی ہے
- ہمارے بس میں اگر اپنے فیصلے ہوتے
- یہ دل بھُلاتا نہیں ہے محبتیں اُس کی
- یہ عُمر بھر کا سفر اور یہ رائیگانی تری
- یہ میری عمر مرے ماہ و سال دے اُس کو
- یہ نام ممکن نہیں رہے گا،مقام ممکن نہیں رہے گا
- یہی نہیں کوئی طوفاں مِری تلاش میں ہے
