زمانہ خدا ہے : ن م راشد

‘زمانہ خدا ہے، اسے تم برا مت کہو’

مگر تم نہیں دیکھتے ۔۔۔ زمانہ فقط ریسمانِ خیال
سبک مایہ، ارزاں، طویل
جدائی کی ارزاں سبیل
وہ صبحیں جو لاکھوں برس پیشتر تھیں
وہ شامیں جو لاکھوں برس بعد ہوں گی
انھیں تم نہیں دیکھتے، دیکھ سکتے نہیں
کہ موجود ہیں، اب بھی موجود ہیں وہ کہیں
مگر یہ نگاہوں کے آگے جو رسی تنی ہے
اسے دیکھ سکتے ہو، اور دیکھتے ہو
کہ یہ وہ عدم ہے
جسے ہست ہونے میں مدت لگے گی
ستاروں کے لمحے، ستاروں کے سال

مرے صحن میں ایک کم سن بنفشے کا پودا ہے
طیّارہ کوئی کبھی اس کے سر پر سے گزرے
تو وہ مسکراتا ہے اور لہلہاتا ہے
گویا وہ طیارہ اس کی محبت میں
عہدِ وفا کے کسی جبرِ طاقت رباہی سے گزرا
وہ خوش اعتمادی سے کہتا ہے
’لو، دیکھو، کیسے اسی ایک رسی کے دونوں کناروں
سے ہم تم بندھے ہیں
یہ رسی نہ ہو تو کہاں ہم میں تم
ہو پیدا یہ راہِ وصال‘

مگر ہجر کے ان وسیلوں کو وہ دیکھ سکتا نہیں
جو سراسر ازل سے ابد تک تنے ہیں
جہاں یہ زمانہ، ہنوزِ زمانہ
فقط اک گرہ ہے!

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

ن م راشد کی مزید تخلیقات

ن م راشد کی تمام تخلیقات