انتقام : ن م راشد

اُس کا چہرہ، اُس کے خدوخال یاد نہیں
اک شبستاں یاد ہے
اک جسم آتشداں کے پاس
فرش پر قالین، قالینوں پہ سیج
دھات اور پتھر کے بُت
گوشہ دیوار میں ہنستے ہوئے
اور آتشداں میں انگاروں کا شور
اُن بتوں کی بےحسی پر خشمگیں
اُجلی اُجلی اونچی دیواروں پہ عکس
ان فرنگی حاکموں کی یادگار
جن کی تلواروں نے رکھا تھا یہاں
سنگِ بنیاد فرنگ؛

اُس کا چہرہ اُس کے خدوخال یاد آتے نہیں
اک جسم اب تک یاد ہے
اجنبی عورت کی روح
میرے ہونٹوں نے لیا تھا رات بھر
جس سے اربابِ وطن کی بےبسی کا انتقام
وہ جسم اب تک یاد ہے

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

ن م راشد کی مزید تخلیقات

ن م راشد کی تمام تخلیقات