یہ خلا پُر نہ ہوا : ن م راشد

ذہن خالی ہے
خلا نور سے، یا نغمے سے
یا نکہت گمراہ سے بھی
پُر نہ ہوا

ذہن خالی ہی رہا
یہ خلا حرفِ تسلی سے
تبسم سے
کسی آہ سے بھی پُر نہ ہوا
اک نفی لرزش پیہم میں سہی
جہد بےکار کے ماتم میں سہی

ہم جو نارس بھی ہیں، غم دیدہ بھی ہیں
اس خلا کو
اسی دہلیز پہ سوئے ہوئے
سرمست گدا کے مانند
کسی مینار کی تصویر سے؛
یا رنگ کی جھنکار سے؛
یا خوابوں کی خوشبوؤں سے؛
پُر کیوں نہ کریں؟

کہ اجل ہم سے بہت دُور
بہت دُور ہے؟
نہیں ہم جانتے ہیں
ہم جو نارس بھی ہیں، غم دیدہ بھی ہیں
جانتے ہیں کہ خلا ہے وہ جسے موت نہیں
کس لئے نور سے، یا نغمے سے
یا حرفِ تسلی سے اسے جسم بنائیں
اور پھر موت کی وارفتہ پزیرائی کریں؟
صبح ِ تکمیل کا آغاز کریں

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

ن م راشد کی مزید تخلیقات

ن م راشد کی تمام تخلیقات