پانی کی آواز : ن م راشد

صدائے پائے آ سُن کے آج میں
ادب سے اٹھ کھڑا ہوا
سلام، اے حضور، آپ آ گئے کرم کیا
کہ آپ حسن سے لدی ہوئی
شریر عورتوں سے بھی زیادہ
قابل وصال ہیں
ہم آپ ہی کے انتظار میں

سحر کے گرد
دوپہر کے آس پاس
مردہ رات کے نواح میں
ہمیشہ گھومتے رہے
ہم اپنے اونٹ باغیچوں کی
جھاڑیوں کو چھانتے رہے
کہ آپ اُن میں چھپ گئے نہ ہوں کہیں
ہمیں یہی گمان تھا
مگر کوئی بھی اپنے خواب آپ انتخاب کر نہیں سکا
اسی طرح یہ آپ کا ورودِ ناگہاں بھی ہے
سمندروں میں بھی آپ ہیں
بھاپ میں بھی آپ ہیں
کنووں میں بھی ہیں، مسجدوں
کی موئے زیر ِ ناف سے اٹی ہوئی
شریف نالیوں میں بھی
تو آپ ہی کا راج ہے
لہو میں بھی، شراب میں بھی آپ ہیں
ہزار بار آنسوؤں کی دل نوازیوں میں بھی
دکھائی دی ہے
آپ کی جھلک ہمیں
مگر یہ سچ ہے اسی طرح مصاحبہ نہیں ہوا
نہ آپ آئے اس فسوں گری کے جاں ربا شکوہ سے
نہ اس ادائے لحن سے، نہ اس حشم سے
آپ نے کبھی کرم کیا

نہ جب تک آپ آئے تھے
درخت، جن کی سرنوشت
سرکشی سوا نہیں
یہ سو نوشت بھول کر
جڑوں سے بھی کنارہ گیر ہو گئے
گھروں کے صحن صحن میں
قدم قدم پہ مرگھٹوں کی رات کا ضمیر
کانپنے لگا

اب آپ کے نزول سے
بس اتنا ہو
یہ ترش رُو و تُند خو، یہ خشک سائے
اپنا آپ طنز بن کے راہ لیں
مگر نہ ہو؛

ہمارے بام و در پلوں کو پھاند جائیں
گھروں کی میز کرسیاں
چھتوں پہ تیرنے لگیں
ہمارے کمسنوں کے پیرہن
افق کی چوٹیوں سے جا لگیں
کریم عورتوں کے دست و رُو
کرم کے سیل بے حساب میں غروب ہوں
ہماری سادہ اُلفتوں کے روز و شب
خدا کے لا شعورخدا کے لاشعور میں دبے رہیں
یہ مرگ آزما درخت، یہ رہگزر
پیمبروں کے واہمے کی کیمیا گری بنیں۔

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

ن م راشد کی مزید تخلیقات

ن م راشد کی تمام تخلیقات