طلسمِ جاوداں : ن م راشد

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت
اب رہنے دے
اپنی آنکھوں میں ہے وہ سحر عظیم
جو کئی صدیوں سے پیہم زندہ ہے
انتہائے وقت تک پایندہ ہے
دیکھتی ہے جب کبھی آنکھیں اٹھا کر تو مجھے
قافلہ بن کر گزرتے ہیں نگہ کے سامنے
مصر و ہند و نجد و ایراں کے اساطیر قدیم
دشت و صحرا میں کوئی شہزادہ آوارہ کہیں
سر کوئی جانباز کہساروں سے ٹکراتا ہوا
اپنی محبوبہ کی خاطر جان سے جاتا ہوا

قافلہ بن کر گزر جاتے ہیں سب
قصہ ہائے مصڑ و ہندوستانو ایران و عرب

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت
اب رہنے دے
آج میں ہوں چند لمحوں کے لئے تیرے قریب
سارے انسانوں سے بڑھ کر خوش نصیب
چند لمحوں کے لئے آزاد ہوں
تیرے دل سے اخذ نور و نغمہ کرنے کے لئے
زندگی کی لذتوں سے سینہ بھرنے کے لئے
تیرے پیکر میں جو روح زیست ہے شعلہ فشاں
وہ دھڑکتی ہے مقام و وقت کی راہوں سے دُور
بیگانہ مرگ و خزاں

ایک دن جب تیرا پیکر خاک میں مل جائے گا
زندہ ، تابدہ رہے گی اس کی گرمی۔ اس کا نور
اپنے عہد رفتہ کے جاں سوز نغمے گائے گا
اور انسانوں کو دیوانہ بناتا جائے گا

رہنے دے اب کھو نہیں باتوں میں وقت
اب رہنے دے
وقت کے اس مختصر لمحے کو دیکھ
تُو اگر چاہے تو یہ بھی جاوداں ہو جائے گا
مطمعن باتوں سے ہو سکتا ہے کون؟
روح کی سنگین تاریکی کو دھو سکتا ہے کون
دیکھ اس جذبات کے نشے کو دیکھ
تیرے سینے میں بھی اک لرزش سی پیدا ہو گئی
زندگی کی لذتوں سے سینہ بھر لینے بھی دے
مجھ کو روح کی تکمیل کر لینے بھی دے

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

ن م راشد کی مزید تخلیقات

ن م راشد کی تمام تخلیقات