شہر میں صبح : ن م راشد

مجھے فجر آئی ہے شہر میں
مگر آج شہر خموش ہے

کوئی شہر ہے
کسی ریگ زار سے جیسے اپنا وصال ہو
نہ صدائے سگ ہے نہ پائے درز کی چاپ ہے
نہ عصائے ہمتِ پاسباں
نہ اذانِ فجر سنائی دے
اب وجد کی یاد، صلائے شہر
نوائے دل
میرے ہم رکاب ہزار ایسی بلائیں ہیں
اے تمام لوگو
کہ میں جنھیں کبھی جانتا تھا
کہاں ہو تم؟
تمہاری رات سونگھ گئی ہے کیا
کہ ہو دور قیدِ غنیم میں؟
جو نہیں ہیں قیدِ غنیم میں
وہ پکار دیں

اسی اک خرابے کے سامنے
میں یہ بار دوش اُتار دوں
مجھے سنگ و خِشت بتا رہے ہیں کہ کیا ہوا
مجھے گرد و خاک سُنا رہے ہیں وہ داستاں
جو زوالِ جاں کا فسانہ ہے
ابھی بوئے خوں ہے نسیم میں
تمھیں آں بھر میں خدا کی چیخ نے آ لیا
وہ خدا کی چیخ
جو ہر صدا سے ہے زندہ تر

کہیں گونج کوئی سُنائی دے
کوئی بھولی بھٹکی فغاں ملے
میں پہنچ گیا ہوں تمہارے خواب تک
کہ یہیں سے گم شدہ راستوں کا نشاں ملے

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

ن م راشد کی مزید تخلیقات

ن م راشد کی تمام تخلیقات