سپاہی : ن م راشد
تُو میرے ساتھ کہاں جائے گی؟
موت کا لمحہ مایوس نہیں
قوم ابھی نیند میں ہے
مصلح قوم نہیں ہوں کہ میں آہستہ چلوں
اور ڈروں قوم کہیں جاگ نہ جائے
میں تو ایک عام سپاہی ہوں، مجھے
حکم ہے دوڑ کے منزل کے قدم لینے کا
اور سعی جگر دوز میں جاں دینے کا
تُو میرے ساتھ میری جان، کہاں جائے گی؟
راہ میں اونچے پہاڑ آئیں گے
دشتِ بے آب و گیاہ
اور کہیں رودِ عمیق
بےکراں، تیز و کف و عظیم
اجڑے سنسان دیار
اور دشمن کے دیودار کے پیڑ
عزت و عفت و عصمت کے غنیم
ہر طرف خون کے سیلاب رواں
اک سپاہی کے لئے خون کے نظاروں میں
جسم و روح کی بالیدگی ہے
تُو مگر تاب کہاں لائے گی
تُو میرے ساتھ میری جان کہاں جائے گی
دم بدم بڑھتے چلے جاتے ہیں
سرِ میداں رفیق؛
تُو میرے ساتھ میری جان کہاں جائے گی
عمر گزری ہے غلامی میں میری
اس سے اب تک میری پرواز میں کوتاہی ہے
زمزمے اپنی محبت کے نہ چھیڑ
اس سے اے جان پر وبال میں آتا ہے جمود
میں نہ جاؤں گا تو دشمن کو شکست
آسمانوں سے بھلا آئے گی؟
دیکھ خونخوار درندوں کے وہ غول
میرے محبوب وطن کو یہ نگل جائیں گے؟
ان سے ٹکرانے بھی دے
جنگ ِ آزادی میں کام آنے بھی دے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
