دل سوزی : ن م راشد
یہ عشق پیچاں کے پھول پتے جو فرش پر یوں بکھر رہے ہیں
یہ مجھ کو تکلیف دے رہے ہیں، یہ مجھ کو غمگیں کر رہے ہیں
انھیں یہاں سے اٹھا کے اک بار پھر اسی بیل پر لگا دو
وگرنہ مجھ کو بھی ان کے مانند خواب کی گود میں سُلا دو
خزاں زڈہ اک شجر ہے، اس پر ضیائے مہتاب کھیلتی ہے
اور اس کی بے رنگ ٹہنیوں کو وہ اپنے طوفاں میں ریلتی ہے
کوئی بھی ایسی کرن نہیں جو پھر اس میں روحِ بہار بھر دے
تو کیوں نہ مہتاب کو بھی یا رب تو یونہی بے برگ و بار کر دے
ندیم، آہستہ زمزموں کے سرودِ پیہم کو چھوڑ بھی دے
اٹھا کے ان نازک آبگینوں کو پھینک دے اور توڑ بھی دے
وگرنہ اک آتشیں نوا سے تو پیکر و روح کو جلا دے
عدم کے دریائے بیکراں میں سفینۂ زیست کو بہا دے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
