دریچے کے قریب : ن م راشد

جاگ اے شمع شبستان
محفل خواب کے اس فرش طربناک سے جاگ
لذت شب سے تیرا جسم ابھی چور سہی
آ میری جان، میرے پاس دریچے کے قریب
دیکھ کس ادا سے انوارِ سحر چومتے ہیں
مسجد شہر کے میناروں کو
جن کی رفعت سے مجھے
اپنی برسوں کی تمنا کا خیال آتا ہے

سیمگوں ہاتھوں سے اے جان ذرا
کھول مے رنگ جنوں خیز آنکھیں
اسی مینار کو دیکھ
صبح کے نور سے شاداب سہی
اسی مینار کے سائے تلے کچھ یاد بھی ہے
اپنے بیکار خدا کی مانند
اونگھتا ہے کسی تاریک نہاں خانے میں
ایک افلاس کا مارا ہوا ملائے حزیں
ایک عفریت۔۔۔ اداس
دیکھ بازار میں لوگوں کا ہجوم
بے پناہ سیل کے مانند رواں
جیسے جنات بیابانوں میں
مشعلیں لے کر سرِ شام نکل آتے ہیں
ان میں ہر شخص کے سینے کے کسی گوشے میں
ایک دلہن سی بنی بیٹھی ہے
ٹمٹماتی ہوئی ننھی سی خودی کی قندیل
لیکن اتنی بھی توانائی نہیں
بڑھ کے ان میں سے کوئی شعلہ جوالہ بنے
ان میں مفلس بھی ہیں بیمار بھی ہیں
زیرِ افلاک مگر ظلم سہے جاتے ہیں

ایک بوڑھا سا تھکا ماندہ سا رہوار ہوں میں
بھوک کا شاہ سوار
سخت گیر اور تنومند بھی ہے
میں بھی اس شہر کے لوگوں کی طرح
ہر شب عیش گزر جانے پر
بہر جمع خس و خاشاک نکل جاتا ہوں
چرخ گرداں ہے جہاں
شام کو پھر اسی کاشانے میں لوٹ آتا ہوں
بےبسی میری ذرا دیکھ کہ میں
مسجد شہر کے میناروں کو
اس دریچے میں سے پھر جھانکتا ہوں
جب انھیں عالمِ رخصت میں شفق چومتی ہے

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

ن م راشد کی مزید تخلیقات

ن م راشد کی تمام تخلیقات