بوئے آدم ذاد : ن م راشد
بوئے آدم ذاد آئی ہے کہاں سے ناگہاں
دیو اس جنگل کے سناٹے میں ہیں
ہوگئے زنجیر پا خود اُن کے قدموں کے نشاں
یہ وہی جنگل ہے جس کے مرغزاروں میں سدا
چاندنی راتوں میں وہ بے خوف و غم رقصاں رہے
آج اسی جنگل میں اُن کے پاؤں شل ہیں ہاتھ سرد
اُن کی آنکھیں نور سے محروم، پتھرائی ہوئی
ایک ہی جھونکے سے اُن کا رنگ زرد
ایسے دیووں کے لئے بس ایک ہی جھونکا بہت
کون ہے بابِ نبرد؟
ایک سایہ دیکھتا ہے چھپ کے ماہ و سال کی شاخوں سے آج
دیکھتا ہے بے صدا، ژولیدہ شاخوں سے انھیں
ہو گئے کیسے اُس کی بُو سے ابتر حال دیو
بن گئے ہیں موم کی تمثال دیو
ہاں اتر آئے گا آدم ذاد ان شاخوں سے رات
حوصلے دیووں کے مات
• — — — — — — — — — — — — — — — •
