اجنبی عورت : ن م راشد

ایشیا کے دور افتادہ شبستانوں میں بھی
میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں
کاش اک دیوار ظلم
میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو
یہ عماراتِ قدیم
یہ خیاباں، یہ چمن، یہ لالہ زار

چاندنی میں نوحہ خواں
اجنبی کے دست غارتگر سے ہیں
زندگی کے ان نہاں خانوں میں بھی
میرے خوابوں کا کوئی روماں نہیں

کاش اک دیوارِ رنگ
میرے ان کے درمیاں حائل نہ ہو
یہ سیہ پیکر راہرو
یہ گھروں میں خوبصورت عورتوں کا زہرخند
یہ گزرگاہوں پہ دیو آسا جواں
جن کی آنکھوں میں گرسنہ آرزوؤں کی لپک
مشتعل، بیاباک مزدوروں کا سیلاب عظیم
ارض ِ مشرق، ایک مبہم خوف سے لرزاں ہوں میں
آج ہم کو جن تمناؤں کی حرمت کے سبب
دشمنوں کا سامنا مغرب کے میدانوں میں ہے
اُن کا مشرق میں نشاں تک بھی نہیں

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

ن م راشد کی مزید تخلیقات

ن م راشد کی تمام تخلیقات