ناہید ورک
منتخب نظمیں
- اے طلب زاد
- بے بسی
- بے مہر رفاقت
- رشتۂ جاں ٹوٹنے پر۔ ۔ ۔
- سوال
- شام اُسے بتانا
- فیصلہ
- مرے ہم نشیں
- میرے اندر خاموشی بولتی ہے
- میں خود کی خواہش میں رہنا چاہتی ہوں
- یاد
منتخب غزلیں
- آپ کے دل سے نسبت سی ہونے لگی
- آنکھ سے غم نہاں نہیں ہوتے
- آنکھ میں نمی کیوں ہے
- آنکھوں میں تیرتے ہیں جو خواب شبنمی سے
- ابرِ ریشم کی طرح مجھ پہ وہ چھانے والا
- اُس کے حصارِ خواب کو مت کربِ ذات کر
- اگر مل سکے تو وفا چاہیے
- بد گمانی کا ذرا پردہ ہٹا کر دیکھیئے
- بکھرتے ہی گئے سب خواہشوں کے ساز، کیا کرتے
- بہار آمیز یہ موجِ صبا کچھ اور کہتی ہے
- بے شک گزر رہی ہے مسلسل عذاب میں
- پچھلی رُت کے شوخ زمانے یاد آئے
- پھر بہانے پرانے بناتے ہوئے
- پھر تیرے خواب ٹانک دیے ہیں پلک پلک
- تارِ مژگاں جو یوں نم سا ہے
- تجھ کو اک نغمہ بنانا چاہتی ہوں
- تری یاد میں رہے دل مرا بے قرار کب تک
- تعبیر کچھ تو ہو کبھی میرے بھی خواب کی
- تفسیر مرے سوال کا تھا
- تمام عمر ہمی کیوں رہے وفا کرتے؟
- تھک گئے ہیں ہم تیرے روز کے ستانے سے
- تیرا احساس پانیوں میں رہے
- تیری تصویر سے کروں باتیں
- تیری راہ میں رکھ کر اپنی شام کی آہٹ
- تیرے ہوتے ہوئے اکیلی ہے
- جب تلک میری زندگی باقی
- جب سے ادراک و ہُنر کا مجھ پہ در وا ہو گیا
- جسم و جاں کے زنداں میں روشنی کی خواہش کی
- جی رہی تھی جسے اک جہاں کی طرح
- چاندنی بن کے جب اُس چاند کا سایہ نکلے
- خواہشیں ہوتی ہیں کیا کیا بارشوں کی رات میں
- دردِ دل ایسا بڑھا خود اپنا درماں ہو گیا
- دردِ دل زبان چاہتا ہے
- دل کے ارماں روتے تھے بام و در کی یاد میں
- دل میں مچلتی ہے انجان خواہش
- ردائے تن پہ میری داغِ رُسوائی تو دیکھو
- رہِ الفت کی ہر منزل ترے دم سے ہی سر ہو گی
- رہتا ہے مری تاک میں آزار کا موسم
- رہنا تھا مجھ کو تیری نظر کے کمال میں
- روز و شب اک ایک پل زخمِ جُدائی دیکھئے
- زندگی تجھ کو مناؤں کب تلک
- سایۂ گُل میں رہوں محوِ خراماں ہمدم
- سماعتوں کا یہ اعجاز دیکھتی ہوں میں
- سنتے تھے بیوفائیاں تیری
- سوچتے رہتے ہیں ہر دم جو ضرر کی باتیں
- کب ہمیں تمنّا تھی آنکھ میں بسانے کی
- کبھی سمجھ میں نہ آئیں گی چاہتیں میری
- کڑی دھوپ کا جو سفر یاد آیا
- کیا کہا، ۔۔’’یہ دل مرا نا قابلِ تسخیر ہے؟‘‘
- گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی
- گر ہے تو لمحہ لمحہ یہی اک ملال ہے
- مجھے زندگی کی صدا کہہ رہے ہو
- محبت کا کوئی اشارہ تو دے
- میری صبح میری رات رہنے دیتے
- میرے احساس کے آنگن میں اُتر جانے کا
- میرے دل میں شور تیرا جب سے ہے
- نغمہ بن کے ہونٹوں پر اُن کے جو بکھر جاتے
- ہر خزاں کو بہار کرتی ہوں
- ہم جہاں بھی جدھر بھی جائیں گے
- ہمیں تیری محبت میں کمی اچھی نہیں لگتی
- ہو فرقتوں میں وصال کیسے
- ہوئی ہیں گویا گلاب آنکھیں
- ہوا چپ ہے صدا چپ ہے
- ہوا میں اڑتے ہوئے بادباں نہیں گزرے
- وہ نہیں جانتے جب وفا، کیا کریں
- یہ جو لمحے گلاب جیسے ہیں
