مصطفیٰ زیدی
سیدمصطفیٰ حسین زیدی کی پیدائش 12اکتوبر1930ء کو ایک متمول خاندان میں ہوئی تھی ان کے والد سید لخت حسین زیدی سی آئی ڈی کے ایک اعلی افسر تھے۔ مصطفیٰ زیدی بے حد ذہین طالب علم تھے۔ الہ آباد یونیو رسٹی سے انہوں نے گریجویشن کیا تھا اور صرف 19سال کی عمر میں ان کا شعری مجموعہ ”موج مری صدف صدف“ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس کا دیباچہ فراق گورکھپوری نے لکھا تھا اور فراق صاحب نے ان کی شکل میں ایک بڑے شاعر کی پیش گوئی کی تھی۔ کسی حد تک تو یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی لیکن بے وقت موت نے ان کا شعری سفر اچانک ختم کر دیا۔ چالیس سال کی زندگی میں ان کے چھ مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کی کلیات کلیاتِ مصطفی زیدی کے نام سے شائع ہوئیں۔
منتخب نظمیں
- آئینہ خانہ تصور میں
- آخری بار ملو
- اقوام متحدہ
- بہ نام وطن
- پاگل خانہ
- تہذیب – ایک تمثیل
- حصار
- ساعتِ جہد
- سایہ مصطفی زیدی
- سپُردگی
- سناٹا
- سیاہ لہو
- شہر جنوں میں چل
- کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
- ماہ و سال
- مِری پتھر آنکھیں
- مسافر
- میلاد
- نوروز
- وہ اجنبی
- یاد
منتخب غزلیں
- آندھی چلی تو نقشِ کفِ پا نہیں ملا
- جو دن گزر گئے ہیں ترے التفات میں
- روکتا ہے غمِ اظہار سے پِندار مُجھے
- سُن اے حکیم ملت و پیغمبر نجات
- شہر جنوں میں چل مری محرومیوں کی رات
- غزلیں نہیں لکھتے ہیں قصیدہ نہیں کہتے
- کسی اور غم میں اتنی خلش نہاں نہیں ہے
- کفِ مومن سے نہ دروازۂ ایماں سے ملا
- کہیں کہیں پہ ستاروں کے ٹوٹنے کے سوا
- کیا کیا نظر کو شوقِ ہوس دیکھنے میں تھا
