منیر نیازی
اردو اور پنجابی کے مشہور شاعر اور ادیب ۔ ضلع ہوشیار پور (مشرقی پنجاب) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ جنگ عظیم کے دوران میں ہندوستانی بحریہ میں بھرتی ہوگئے لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر گھر واپس آگئے۔ برصغیر کی آزادی کے بعد لاہور آگئے۔
منیر نیازی نے جنگل سے وابستہ علامات کو اپنی شاعری میں خوبصورتی سے استعمال کیا۔ انہوں نے جدید انسان کے روحانی خوف اور نفسی کرب کے اظہار کے لیے چڑیل اورچیل ایسی علامات استعمال کیں۔منیر نیازی کی نظموں میں انسان کا دل جنگل کی تال پر دھرتا ہے اور ان کی مختصر نظموں کا یہ عالم ہے کہ گویا تلواروں کی آبداری نشتر میں بھر دی گئی ہو۔ ان کے اردو شاعری کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے شائع ہوئے۔ ان کے مجموعوں میں بے وفا کا شہر، تیز ہوا اور تنہا پھول، جنگل میں دھنک، دشمنوں کے درمیان شام، سفید دن کی ہوا، سیاہ شب کا سمندر، ماہ منیر، چھ رنگین دروازے، شفر دی رات، چار چپ چیزاں، رستہ دسن والے تارے، آغاز زمستان، ساعت سیار اور کلیات منیر شامل ہیں۔
منتخب نظمیں
- آتما کا روگ
- آخری عمر کی باتیں
- اُپدیش
- اپنے آپ نال گلاں
- اپنے آپ وچ رہن دا سُکھ
- اج دا دن وی
- اسماناں وَل ویکھن والیاں دا درد
- اِک اُجاڑ شہر
- اک پرانا گیت
- اِک پکی رات
- اک جہان توں دوجیاں جہاناں دا خیال
- اک دوپہر چڑیلاں دے جھرمٹ وچ
- اِک کُڑی
- اِک موقعے تے
- اِک ہنیری جگہ تے
- اک ہور بے تکی تصویر
- اللہ دی مخلوق
- اللہ ولوں گن دی حفاظت
- ایک آسیبی رات
- ایک بہادر کی موت
- ایک رسم
- ایک لمحہ تیز سفر کا
- ایہناں نوں سفنیاں وچ ملنا ای چنگا رہندا اے
- بازگشت
- بچیاں ورگیاں حرکتاں
- برسات
- بھیروں بہار کا خیال
- بے سود سفر کے بعد آرام کا پَل
- پاگل پن
- پُٹھیاں سدّھیاں سوچاں
- پُرانیاں گلیاں
- پہلے بدل دی رات
- تریا چلتر
- تنہائی
- جامنی رنگ دا کرشمہ
- جدوں جنگل وچ ہووو
- جنگ کے سائے میں جنتِ ارضی کا خواب
- جنگل دے جادو
- جین لئی جتن
- چار چپ چیزاں
- حرفِ سادہ و رنگیں
- خاکی آدم دا آخری عمراں دا خواب
- خاکی رنگ کی پریشانی میں خواب
- خدا کو اپنے ہمزاد کا انتطار
- خزاں
- خزاں زدہ باغ پر بوندا باندی
- خواب گاہ
- دشمنوں کے درمیان شام
- دُھپ وچ تعزیہ
- دُھند ہے اور شہر ہے اور خواب ہے
- دھوپ میں ایک غیر آباد شہر کا نظارہ
- دوری
- دوسری موت توں پہلے
- دوہہ
- دیکھنے والے کی الجھن
- رستے
- رستے دی اک رات
- زنداں
- سپ دیاں صفتاں
- سِدّھی جئی گل
- سفر دی رات
- سفردے عجائب
- سُن
- سندر بن ول اک ادھورا سفر
- سوچن دی سزا
- سورج سامنے بند اکھاں وچ
- سورج مکھی
- سویر ویلے
- شبِ ویراں
- شہر کو تو دیکھنے کو اک تماشا چاہیے
- شہر دی کُڑی
- شہر دے مکان
- صدا بہ صحرا
- طلسمات
- ظاہر باطن دا رشتہ
- فجر ویلے دی اداسی
- فراق دی اِک رات
- کُجھ کرو
- کس موسم وچ
- کل دی گل
- گان والے پنچھی دی ہجرت
- لال اِٹاں تے چن
- لُکیاں ہوئیاں چیزاں
- لہو والے ہتھ
- لیلیٰ
- محبت اب نہیں ہو گی
- موت
- موت دی آواز
- میرا اصل وجود
- میری عادت
- مینوں رستہ دسن والے تارے
- میں
- میں بھی ہوں اپنے ایک خواب میں مست
- میں تے ایہہ شہر
- میں جیسا بچپن میں تھا
- نویں رُت
- ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہر کام کرنے میں
- ہن ہور کی باقی رہ گیا
- ہوا نال ٹکراں
- ہور اگے جان دی خواہش
- ہونی دے حیلے
- ہونے کا غم کس کو نہیں
- وحشی عورت
- وصال کی خواہش
- وقت توں اگے لنگھن دی سزا
- وے منڈیا ہان دیا ۔۔۔ گیت
- یہ گزرتے دن ہمارے
منتخب غزلیں
- آئینہ بن کر کبھی اُن کو بھی حیراں دیکھیے
- اپنا تو یہ کام ہے بھائی، دل کا خُون بہاتے رہنا
- اپنی ہی تیغِ ادا سے آپ گھائل ہو گیا
- اپنے گھر کو واپس جاؤ” رو رو کر سمجھاتا ہے
- اس شہرِ سنگ دل کو جلا دینا چاہیے
- اس کو مجھ سے حجاب سا کیا ہے
- بادل برس رہا تھا وہ جب میہماں ہوا
- بدل اُڈے تے گُم اسمان دسیا
- بیٹھ جاتا ہے وہ جب محفل میں آ کے سامنے
- بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
- پھول تھے، بادل بھی تھا اور وہ حسیں صورت بھی تھی
- پہنچنا چاہندا ہاں منزلاں تے لگن اے ایڈی
- پِی لی تو کچھ پتا نہ چلا وہ سُرور تھا
- تجھ سے بچھڑ کر کیا ہوں میں، اب باہر آ کر دیکھ
- جب بھی گھر کی چھت پر جائیں ناز دکھانے آ جاتے ہیں
- جو دیکھے تھے جادو ترے ہات کے
- جیہڑے اپنے جئے کجھ لگدے سن ہن اوہناں دے نقشے وی یاد نئیں رئے
- دل جل رہا تھا غم سے مگر نغمہ گر رہا
- ڈوبا نڈھال سورج، تاروں کا باغ چمکا
- رہندا اے پہرا خوف دا قدماں دے نال نال
- شام آئی ہے شراب تیز پینا چاہیے
- شبِ ماہتاب نے شہ نشیں پہ عجیب گُل سا کھلا دیا
- عجب رنگ رنگیں قباؤں میں تھے
- غم کی بارش نے بھی تیرے نقش کو دھویا نہیں
- گھپ اندھیرے میں چھُپے سُونے بنوں کی اور سے
- ہے شکل تیری گلاب ورگی
- وقت سے کہیو ذرا کم کم چلے
