محسن نقوی
سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر اور اہلِ تشیع کے مشہور خطیب تھے۔ ان کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے ایم اے اردو کیا تھا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعہ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے جہاں 15 جنوری 1996ء کو ایک دہشت گرد مذہبی تنظیم کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔
منتخب نظمیں
- آؤ وعدہ کریں
- آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم
- ابھی کیا کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی کیا سنیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
- اے مرے کبریا۔۔۔۔!
- بے وفا
- تمھیں کس نے کہا تھا؟
- چلو چھوڑو!
- چلو چھوڑو!
- خود پسند
- کبھی یاد آؤ تو اس طرح!!!!!!
- موجِ ادراک
- میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی !!!!!!
- میرے بس میں ہو تو کبھی کہیں
- میرے نام سے پہلے
- میرے نام سے پہلے ۔۔۔۔۔۔۔
- میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
- ہم ایسے لوگ بہت ہیں۔۔
- وہ میں نہیں ہوں
- وہم
- یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں،
منتخب غزلیں
- آنکھوں میں کوئی خواب اُترنے نہیں دیتا
- آنکھیں کھلی رہیں گی تو منظر بھی آئیں گے
- آہٹ سی ہوئی تھی نہ کوئی برگ ہلا تھا
- اب کے یو ں بھی تری زلفوں کی شکن ٹوٹی ہے
- اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
- اتنی مدت بعد ملے ہو
- اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
- اک دیا دل میں جلانا بھی بجھا بھی دینا
- بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے
- بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے
- بہار کیا، اب خزاں بھی مجھ کو گلے لگائے تو کچھ نہ پائے
- تعزیرِ اہتمامِ چمن کون دے گیا
- تن پہ اوڑھے ہوئے صدیوں کا دھواں شامِ فراق
- چاندنی رات میں اس پیکرِ سیماب کے ساتھ
- چاہت کا رنگ تھا نہ وفا کی لکیر تھی
- چہرے پڑھتا، آنکھیں لکھتا رہتا ہوں
- دیکھ رہین احتیاط یوں نہ ابھی سنبھل کے چل
- ذکرِ شبِ فراق سے وحشت اسے بھی تھی
- رہتے تھے پستیوں میں مگر خود پسند تھے
- شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
- شکل اس کی تھی دلبروں جیسی
- شہر کی دھوپ سے پوچھیں کبھی گاؤں والے
- طے کر نہ سکا زیست کے زخموں کا سفر بھی
- طے کر نہ سکا زیست کے زخموں کا سفر بھی
- عذاب دید میںآنکھیں لہو لہو کر کے
- عذاب دید میںآنکھیں لہو لہو کر کے
- کب تلک شب کے اندھیرے میں شہر کو ترسے
- کبھی تو محیطِ حواس تھا سو نہیں رہا
- لغزشوں سے ماورا تو بھی نہیں میں بھی نہیں
- لہو سے دل کبھی چہرے اجالنے کے لئے
- متاعِ شامِ سفر بستیوں میں چھوڑ آئے
- مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں
- مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں
- میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے
- ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعد
- ہر ایک زخم کا چہرہ گلا جیسا ہے
- ہم سے مت پوچھو راستے گھر کے
- ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے
- وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے
- وہ دل کا برا نہ بے وفا تھا
- وہ لڑکی بھی ایک عجیب پہیلی تھی
- یہ دل یہ پاگل دل میرا کیوں بجھ گیا! آوارگی
