مبارک حیدر
پاکستان کے علمی، ادبی، ثقافتی اور سیاسی حلقوں میں مبارک حیدر کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔
پینتالیس برس قبل ایک نوجوان جوشیلے مزدور لیڈر کے رُوپ میں شروع ہونے والا اُن کا سفر ارتقاء کی فطری منزلیں طے کرتا ہوا اِس پختہ عمری میں انہیں ایک متحمل مزاج لیکن زِیرک اور تجربہ کار انقلابی دانشور کی منزل تک لے آیا ہے۔
ایک مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولی اور روائتی مذہبی تعلیم حاصل کی، عربی میں گریجوایشن کی۔ اس کے بعد انگریزی میں ماسٹرز۔ پھر مختلف کالجوں میں پڑھاتے رہے۔ ۱۹۶۷ سے اب تک کئی دفعہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے جیل کاٹ چکے ہیں۔
منتخب نظمیں
- اہلِ خبر کو سلام
- پھانسی کا دن
- پھر شام اُڑی
- جس لمحہ سحر
- چلو اس شہر سے
- خاک کو لے چلیں
- خدا پیہم تسلی دے رہا ہے
- دعا کرو
- شہر فصیلاں
- فائر
- قسم سرافیل کے گجر کی
- لانگ ڈرائیو
- مادھو لال
- ہوائے مراجعت
