مقبول عامر
منتخب نظمیں
- ۔۔۔۔۔۔۔پیاسے کو شبنم
- اپنے ہمزاد سے
- ایک جنگجو قبیلے کے شاعر کا گیت
- ایک نوجوان محنت کش کا نغمہ
- جوئے شیر
- جواز
- دھنک
- دیارِ سبزہ و گل
- زمبابوے
- زندگی
- مسافتِ جاں
- ملاّح کا گیت
- ملازمت
- نہ جانے
- نیلا رنگ
- نیلسن منڈیلا
منتخب غزلیں
- آسماں کی چادر پر جس قدر ستارے ہیں
- آنکھ میں رنگ بھریں ، روح کو تازہ کر لیں
- آنکھوں کے خواب زار کو تاراج کر گئی
- اب اس کے بعد ترا اور کیا ارادہ ہے
- اس ایک ذات سے اپنا عجیب ناتا ہے
- اُسے بلاؤ کہ جس کے چہرے پہ چاند تارے سجے ہوئے ہیں
- اندھیری رات ہے، رستہ سجھائی دے تو چلیں
- ایک منزل کے ہمسفر چپ ہیں
- بس ایک دھن تھی اُسی دھن میںشعر کہتے رہے
- بلا کی دھوپ تھی ساری فضا دہکتی رہی
- پاس جو کچھ تھا وار آیا ہوں
- پھر وہی ہم ہیں وہی تیشۂ رسوائی ہے
- جان ملٹن
- جانے کس وحشت کا سایہ سا مجھ پہ لہراتا ہے
- جانے کیا سوچ کے اربابِ نظر لوٹ آئے
- جو گم ہوئے وہ زمانے تلاش کرتا ہوں
- چرواہا بستی والوں سے کہتا ہے
- خزاں کی رت میں بھی نقشِ بہار باقی ہے
- خوشبوؤں کی بارش تھی، چاندنی کا پہرہ تھا
- دل بہل جائے گا، اس کا مجھے اندازہ ہے
- دل و نگاہ میں قندیل سی جلا دی ہے
- دیپ بن کر جلا بجھا ہوں میں
- دیکھ تو یہ کیا ہوا
- رات بیٹھا تھا مرے پاس خیالوں میں کوئی
- راحتیں کہاں ہوں گی کونسے نگر جائیں
- رچی ہوئی ہے یہ کیسی مہک ہواؤں میں
- رخِ حیات کو رنگ نشاط مل جائے
- رنگ اور نور کی دنیا میں ذرا لے جائے
- زمین خشک، فلک بادلوں سے خالی ہے
- زندگی کا مآل۔ تنہائی
- زندگی کس ڈگر پہ چلتی ہے
- سکوتِ شب سے تکلم کی ابتدا تو کرو
- سلگ رہی ہے فضا سائباں کے ہوتے ہوئے
- شب کی تلخی شبِ غم سے پوچھو
- فصل گل ہے تو بے اثر کیوں ہے
- کب سے گم سم ہیں در و بام اے رات
- کوئی تو عکس ہو ایسا جو معتبر ٹھہرے
- کیوں خوابوں کے محل بنائیں کیوں سپنے تعمیر کریں
- مجھے عزیز ہے کوئی بھی نور پارہ ہو
- منتظر رہنا مری جان بہار آنے تک
- میری تعریف کرے یا مجھے بدنام کرے
- میری حدِ نظر وہاں تک ہے
- نہ تیری دسترس میںکچھ نہ میرے اختیار میں
- ہاں کچھ تو مزاج اپنا جنوں خیز بہت ہے
- ہو پوری خواہش پرواز کیسے
- وہ خواب ٹوٹے ہوئے کتنے ماہ و سال ہوئے
- وہ خود بھی پیاس کے سوکھے نگر میں بستا ہے
- یہ عہد کرب مرے نقش کو ابھارے گا
- یہی چنار یہی جھیل کا کنارا تھا
