ماجد صدیقی
منتخب غزلیں
- آنکھوں کو نہیں سُوجھتا، آزار کہاں ہے
- اب کی بہار بھی چلتے دیکھا زور چمن پہ وہ ژالوں کا
- اب کے چلن ہوا کا غضب اور ڈھائے گا
- اب کے یہ کیا حشر اٹھا ہے شہروں میں
- اپنے گھر میں جبر کے ہیں فیضان کئی
- اُس نے بھی جو زہریلے دشمن پر اب کے جھپٹا ہے
- اُس نے جو ہشیار تھا ، دیکھا چھین لیا
- اظہار کو تھا جس کی رعُونت پہ گماں اور
- اِک زمانے سے بہ وجہِ قحطِ زر، ناراض ہیں
- ایک عارفانہ غزل
- بے سمت سب علاج مسیحا کہاں ملے
- پت جھڑوں میں کیا سے کیا یاد آئیاں
- پتّا گرے شجر سے تو لرزہ ہمیں ہو کیوں
- پڑے ہیں دیکھنے کیا کربِ آشکار کے دن
- تشنہ لب شاخچوں پر نئے سال کے پھول کھِلنے لگے
- تھے جتنے ذائقے وہ اپنا لطف کھونے لگے
- ٹھہرے جو بھسم ، مِلکِ ستم گار نہیں تھے
- جب سے اہلِ حرص کو کچھ کچھ ثمر ملنے لگے
- جبر وہ کیا ہے جس سے آنکھ چرانے لگے ہیں
- جتنے کمتر ہیں یہ کہتے ہیں، خدا نے کیا کِیا
- جذبوں کو زبان دے ر ہا ہوں
- جس انداز کا تھا اس سے منسوب سلوک ایسا ہی کیا
- جس کا ہر منظر مرتّب ہے نئی آفات سے
- جو آنکھیں دیکھتی ہوں دھُند کے اُس پار، کم کم ہیں
- چمن پہ ہے تو بس اِتنا سا اختیار ہمیں
- چھلک پڑے جو، سُجھاؤ نہ عرض و طول اُس کو
- حرص و نخوت کے اندھے نگر میں باپ ہیں جو جواں بیٹیوں کے
- حق طلبی سے اب کے دھیان ہٹانے لگے ہیں
- خاص ہے اُس سے جو اِک داؤ چل جائے گا
- خلق چاہے اُسے حسین کوئی، وقت با صورتِ دگر دے دے
- خلقتِ شہر کو بے زباں دیکھنا
- خون میں برپا رہتی تھی جو ہلچل سی
- خونِ مظلوماں سے ہیں شاداب ہونے لگ پڑیں
- دامن دامن بھیگ چلا ہے آنکھیں ساری بے نم ہیں
- دستِ شفقت کیوں بہ حقِ جور بن جانے لگا
- دل سے تیروں کا اور کمانوں کا
- دھچکے ابھی کتنے ہیں ابھی کھائیاں کیا کیا
- دھوکا تھا ہر اِک برگ پہ ٹوٹے ہوئے پر کا
- دوسروں کے واسطے جیا تھا مر گیا
- دیکھنا ہر سمت سیلِ فتنہ و شر دیکھنا
- ذرّوں سے پہچان ہے ضو کی، ماہِ مبیں کوئی اور
- ذِی نفس جو بھی ہے اُس کو جان کا کھٹکا لگا
- راگنیوں سے بے بہرہ سُر تالوں جیسے
- رُت وہ کیوں ہو بھلا قبول مجھے
- رگ بہ رگ پیہم لئے برگ و ثمر کا انتظار
- رم خوردہ ہرنوں کو راہ پر لانے نکلے
- رہِ سفر میں ہوئیں ہم پہ سختیاں کیا کیا
- رہن جن کے عوض ہو متاعِانا ،ہیں شرف کی مجھے وہ قبائیں ملیں
- ریا کی زد پہ ہے کب سے اسے سنبھلنے دو
- زچ ہوئے پر جو ذرا سا تھا بدل جانے لگا
- زد پر جب اُس کی میں حدِ جاں سے گزر گیا
- سانپ کہاں ہے اِتنا پتہ جب چل جاتا ہے
- سانس روکے کھڑے ہیں شجر دیکھنا
- سجل حویلیوں کی ، بام و در کی بات اور ہے
- سُر اداسی کے بکھیریں سانس کی شہنائیاں
- سر پہ کیا کیا بوجھ روز افزوں نظر آنے لگے
- سرفرازی بھی دے خجالت بھی
- شاخ پہ پھول کھِلا دیکھا ہے
- شاخیں یہی کہتی ہیں، نہ بے دم ہمیں دیکھا
- شاہیں پہ بندھ رہا تھا نشانہ، کمان کا
- شبِ سیہ میں جگنو سا جو نگاہ میں ہے
- شرف مآب ہوئے سے جب سے مکر و فن کے گلاب
- شہر پہ جانے کس افتاد کی گھڑیاں آنے والی ہیں
- صحنوں کی گھُٹن شہر کا مینار نہ جانے
- عرش سے رُخ جانبِ دنیائے دُوں کرنا پڑا
- عہد یہی اب اِنسانوں نے ٹھہرانا ہے
- فرق نہ سمجھیں کچھ دھُتکارے جانے میں
- فصیلوں پر سحر، صحنوں میں شب ہے
- قاتل تھا جو، وہ مقتول ہُوا
- کافی ہے یہی، دل کو سزا اور نہ دینا
- کب مہاجن نجانے بگڑنے لگیں
- کر کے غاصب کو زیر و زبر چھین لے
- کس نے یاد کیا ہے اتنی دیر گئے
- کم نہیں وجدان پر اُتری ہوئی آیات سے
- کھیت بھی اور حاصل ہے جسے سرداری بھی
- کھیتیاں خشک اور آبیانے وہی
- کوئی نشانِ سکوں آنکھ کی فضا میں نہیں
- کیا خبر کیا کچھ کوئی دیکھے یہاں
- کیا کہیں ذی مرتبت کتنے تھے اور کیا ہو گئے
- کیا کہیں کیا کچھ ہمیں دنیائے دُوں کرنا پڑا
- کیا کیا خم اور ہوں ابھی بازو کمان کے
- گِرا ہوں شجر سے اُڑا چاہتا ہوں
- گھُٹن کی آنچ میں جب سے جلا ہے
- گھِر گیا ہے سیاستِ دل میں
- گیا تو باغ کا رشتہ فنا سے جوڑ گیا
- گیاہ و برگ کو دیں بے زبانیاں کیا کیا
- لٹ جانے کے خدشوں سے دو چار ہوئے
- لگے ہے اپنے یہ دن،چلچلاؤ جیسے ہیں
- ماتھے کی سلوٹوں سے ہے اتنا گلا مجھے
- مجھ سے کشیدہ رو ہیں کیونکر میرے ہنر کے لوگ
- مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی
- مری ہر آس کے خیمے کی زینب بے رِدا کر دی
- مزرعۂ دین میں اُگتے ہیں اصنام مرے
- ملا ہے تخت کسے کون تخت پر نہ رہا
- منصبِ انسانی سے نیچے اترے کون
- موتی پئے جمال ہنر ڈھونڈنے پڑے
- ناحق پہ بھی لاریب گھڑی آئے گی کچھ اور
- نشۂ بے حسی تھی کہ نا آگہی لوگ سوئے ملے
- نشۂ سَرخوشی اَوج پر دیکھنا
- نہ ابتدا سے نہ انجامِ ناگہاں سے سنی
- نہیں کہ تجھ سے وفا کا ہمیں خیال نہ تھا
- ہم پہ کرم فرمانے آئے
- ہمارے گرد ہے کیا جال سا یہ چالوں کا
- ہوتا ہے ایسے ربط سے جی کا زیاں الگ
- ہونا کیا ہے اِس کے شور مچانے سے
- وسعتِ تِیرہ شبی ، تنہا روی ہے اور ہم
- وقت دکھا دے شاید کوئی بھولی بسری شام
- وقت کی دھُن پر لپکتی زندگی، رُک جائے گی
- وقت کی شاخ پر پات پیلا پڑا اور میں کھو گیا
- وہ چنچل جب سے میرا ہو گیا ہے
- وہ کہ اُجڑے ہوئے جُوڑوں میں سجائے جائیں
- وہ کہ جو دھونس جمانے آگ سا برسا ہے
- وہ کہ لمس میں تھا حریر، رنگ میں نار سا
- یہ اضافہ بھی ہُوا ماں باپ کے آزار میں
- یہ کیا؟ کچھ کہنے کے بعد ہی سوچا جائے
