خالد علیم
منتخب نظمیں
- آوارہ تحیر
- اختتام سے پہلے
- اک شہر امکاں جاگتا ہے
- باغ جناح کی شب ابتدا
- چلو آؤ
- خواب و سراب
- شکست خواب کے بعد
- صبح امید ڈر جائے گی
- طلسم
- قدم اپنے سنبھالو
- کوئی نم نہ رہنے دو
- گزشتہ موسموں کی ایک تازہ نظم
- ماہ و سال کے اس پار
- مرگِ انتظار
- نارسائی
- ہر تمنا سراب
- ہمیں اک عہد کرنا ہے
- ہوا زنجیر مت کرنا
- وہی بارہ دری
- یہ سب کیا ہے؟
منتخب غزلیں
- آسماں پیما ہے خواہش کا غبار اڑتا ہوا
- آنکھ کا پردۂ نمناک ہے خاک
- اب اپنے اپنے مقامات میں ہیں کھوئے ہوئے
- ابھر کے آئیں ترے منظر نگاہ پہ بھی
- اسے کیا خبر کہ پلک پلک روش ستارہ گری رہی
- اک انتخاب وہ یادوں کے ماہ و سال کا تھا
- اگر یہ رات نہ اپنے دیے بجھایا کرے
- اوڑھے ہوئے ہیں کب سے ردائے سراب ہم
- ایک تو تھا اور اک منظر تھا سطح آب کا
- اے ہوا بتا مجھ کو کیوں یہ دل دھڑکتا ہے
- بدلا ہے مزاج بستیوں کا
- بڑھ رہا ہے جتنی تیزی سے حصار آفات کا
- بکھر گیا سر آفاق جب کنارۂ شام
- بے تعلق میں خود اپنے ہی گھرانے سے ہوا
- پاؤں کیا وقت کی دہلیز پہ ہم رکھتے ہیں
- پھر کسی ہجر کا امکان لیے پھرتی ہے
- تقدیر کے چاک پر رواں ہے
- تم نے دیکھ لیا ہوگا اس چہرے کی ویرانی سے
- تمام عمر بچھڑنے کا اک بہانہ ہوا
- تو نے مری وفا کے عوض کچھ درد مثال خیال دیے
- تیرے لیے میں ساری عمر گنوا سکتا ہوں
- ٹوٹ کر جو کف مژگاں پہ بکھر جاتا ہے
- جب قریہ قریہ گرم لہو کی دھار گئی
- جمود وہ تھا کہ خود سے گریز پا نکلے
- چھپ گیا جب چاند جا کر بدلیوں کی اوٹ میں
- حادثہ یہ ہے کہ اک حادثہ ہونا ہے ابھی
- خوابیدگی درد کی محرم تو نہیں ہے
- دامن چاک ہی اے ہم نفساں ایسا تھا
- دست صبا نے کاٹ دی زنجیر بوئے گل
- دل آزردہ بھی کیا خوش نظری رکھتا ہے
- دلِ بے خواب یہ کیا قصّۂ جاں ہے
- دل کا یہ کسی کے بس میں رہنا
- دل کی آواز کو الفاظ میں لانے کا ہنر
- دیکھتا ہوں ان کی نفرت کو میں حیرانی کے ساتھ
- رہینِ کرب ہے دل، چشم تر میں خاک نہیں
- روشن ہے ستارۂ سحر کیا
- زمیں کے سینے پہ کیا جانے کیا گزرتی ہے
- ستم گروں کے لیے مہربان ہو جاتی
- سقف سکوں نہیں تو کیا، سر پہ یہ آسماں تو ہے
- سوچ، دشت ہجر کی ویرانیوں میں گم رہی
- سیل گریہ ہے کوئی جو رگ جاں کھینچتا ہے
- شہر میں جب غنچہ دہنی، گل پیرہنی مقبول ہوئی
- صحرا میں ہم اترے تو لب جو نکل آئے
- عجب انداز سے چہرے کی تابانی میں رہتا ہے
- عرصۂ بے سائباں اور میں
- عشق میں بہتا ہے جو دریا بہ دریا، کون ہے
- عمر گزاری تو کیا نکلا
- قریۂ دل میں ہے کس کا کف پا آوارہ
- کبھی زمین کبھی آسماں کی زد میں ہے
- کس راہ میں ہے سفر ہمارا
- کسی کی یاد سے ہم بے نیاز ہو جائیں
- کسی ہجر کی رات کا کوئی منظر اٹھائے ہوئے
- کیا ضروری ہے وہ ہم رنگِ نوا بھی ہو جائے
- گرفتِ خاک سے باہر مجھے نکلنے دے
- گزارتے ہیں یہ دن بھی ترے ملال میں ہم
- ماحول دھواں اگل رہا ہے
- مرے چہرے کے پیچھے عکس اس کا جاگتا ہے
- منزل پہ کچھ اور مہرباں تھی
- میں کس کو تلاش کر رہا ہوں
- نقش جو آنکھ میں تصویر ہوا کرتے تھے
- نقش کچھ اور سرِ خاک ابھارا جائے
- نقش و صدا بے نشاں، جاں ہے سرابوں میں گم
- ہر چند کہ زخم بھر گیا ہے
- ہر قدم ایک نیا کوہِ گراں ہے
- ہم کہ منزل کا تصور نہ نظر میں رکھتے
- ہم ہی، ممکن ہے، ترے ناز اٹھانے لگ جائیں
- ہوائے تند میں عزم سفر نکالتے ہیں
- وہ شور کہ سنتا رہا اپنی ہی صدا میں
- یادوں کی وادیوں میں نہ اتنا بھی رَم کرو
- یہ ترے ہجر نے پیدا کیے اسباب ایسے
- یہ حکم ہے کہ غمِ کشتگاں نہ رکھا جائے
- یہ کیسی خوئے شب تابی دل خود سر میں رہتی ہے
