یہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں : حبیب جالب
یہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں
یہ زندگی نصیب ہے لوگوں کو کم یہاں
کوشش کے باوجود بھلائے نہ جائیں گے
ہم پر جو دوستوں نے کئے ہیں کرم یہاں
کہنے کو ہمسفر ہیں بہت اس دیار میں
چلتا نہیں ہے ساتھ کوئی دو قدم یہاں
دیوار ِ یار ہو کہ شبستانِ شہرِ یار
دو پل کو بھی کسی کے نہ سائے میں تھم یہاں
نظمیں اداس اداس فسانے بُجھے بُجھے
مدت سے اشکبار ہیں لوح و قلم یہاں
اے ہم نفس یہی تو ہمارا قصور ہے
کرتے ہیں دھڑکنوں کے فسانے رقم یہاں
• — — — — — — — — — — — — — — — •
حبیب جالب کی مزید تخلیقات
- آخر کار یہ ساعت بھی قریب آ پہنچی نظم
- تُو رنگ ہے، غبار ہیں تیری گلی کے لوگ غزل
- جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے غزل
- دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں غزل
- رُخصتی نظم
- کہیں آہ بن کے لب پر تیرا نام نہ آ جائے غزل
- مستقبل نظم
- میں نہیں مانتا نظم
- نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں غزل
- یہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں غزل
