رُخصتی : حبیب جالب
تُو کلی نرہتوں نکہتوں میں پلی
چھوڑ کر شہرِ گل سوئے صحرا چلی
وہ سلگتا دیا تُو سحر کی کرن
سوچتا ہوں یہی، کیسے بہلے گا من
تُو کلی نزہتوں نکہتوں میں پلی
چھوڑ کر شہرِ گل سوئے صحرا چلی
تُو جہاں سے گزرتی تھی شام و سحر
اب کہاں کہکشاں وہ حسیں رہگزر
شامِ غم چھائی ہے دیکھتا ہوں جدھر
کتنی ویران ہے آج تیری گلی
تُو کلی نرہتوں نکہتوں میں پلی
چھوڑ کر شہرِ گل سوئے صحرا چلی
• — — — — — — — — — — — — — — — •
حبیب جالب کی مزید تخلیقات
- آخر کار یہ ساعت بھی قریب آ پہنچی نظم
- تُو رنگ ہے، غبار ہیں تیری گلی کے لوگ غزل
- جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے غزل
- دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں غزل
- رُخصتی نظم
- کہیں آہ بن کے لب پر تیرا نام نہ آ جائے غزل
- مستقبل نظم
- میں نہیں مانتا نظم
- نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں غزل
- یہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں غزل
