رُخصتی : حبیب جالب

تُو کلی نرہتوں نکہتوں میں پلی
چھوڑ کر شہرِ گل سوئے صحرا چلی

وہ سلگتا دیا تُو سحر کی کرن
سوچتا ہوں یہی، کیسے بہلے گا من

تُو کلی نزہتوں نکہتوں میں پلی
چھوڑ کر شہرِ گل سوئے صحرا چلی

تُو جہاں سے گزرتی تھی شام و سحر
اب کہاں کہکشاں وہ حسیں رہگزر

شامِ غم چھائی ہے دیکھتا ہوں جدھر
کتنی ویران ہے آج تیری گلی

تُو کلی نرہتوں نکہتوں میں پلی
چھوڑ کر شہرِ گل سوئے صحرا چلی

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

حبیب جالب کی مزید تخلیقات

حبیب جالب کی تمام تخلیقات