کہیں آہ بن کے لب پر تیرا نام نہ آ جائے : حبیب جالب

کہیں آہ بن کے لب پر تیرا نام نہ آ جائے
تجھے بے وفا کہوں میں وہ مقام آ نہ جائے

ذرا زلف کو سنبھالو میرا دل دھڑک رہا ہے
کوئی اور طاہرِ دل تہِ دام آ نہ جائے

جسے سُن کے ٹُوٹ جائے میرا آرزو بھرا دل
تیری انجمن سے مجھ کو وہ پیام آ نہ جائے

وہ جو منزلوں پہ لا کر کسی ہمسفر کو لوٹیں
انہی رہزنوں میں تیرا کہیں نام آ نہ جائے

یہ مہ و نجوم ہنس لیں میرے آنسوؤں پہ جالب
میرا ماہتاب جب تک لبِ بام آ نہ جائے

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

حبیب جالب کی مزید تخلیقات

حبیب جالب کی تمام تخلیقات