جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے : حبیب جالب
جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے
ہم نے سب کچھ کر دیکھا ہے
برگِ آوارہ کی صورت
رنگِ خشک و تر دیکھا ہے
ٹھنڈی آہیں بھرنے والو
ٹھنڈی آہیں بھر دیکھا ہے
تیری زلفوں کا افسانہ
رات کے ہونٹوں پر دیکھا ہے
اپنے دیوانوں کا عالم
تم نے کب آ کر دیکھا ہے
انجم کی خاموش فضا میں
میں نے تمہیں اکثر دیکھا ہے
ہم نے اس بستی میں جالب
جھوٹ کا اونچا سر دیکھا ہے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
حبیب جالب کی مزید تخلیقات
- آخر کار یہ ساعت بھی قریب آ پہنچی نظم
- تُو رنگ ہے، غبار ہیں تیری گلی کے لوگ غزل
- جی دیکھا ہے مر دیکھا ہے غزل
- دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں غزل
- رُخصتی نظم
- کہیں آہ بن کے لب پر تیرا نام نہ آ جائے غزل
- مستقبل نظم
- میں نہیں مانتا نظم
- نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں غزل
- یہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہم یہاں غزل
