فرزانہ نیناں
منتخب نظمیں
- آخری خواہش
- بغیر انجام کی منزل
- پتھر کی لڑکی
- پگلی
- پہلی خوشی
- تم یہ کورا رہنے دو!
- تمہاری یاد
- تنہائیوںکی دھوپ
- ٹوٹے پر چڑیاں
- جانے کہاں پہ دل ہے رکھا!
- چاندنی کے ہالے میں کس کو کھوجتی ہو تم
- خوشبو
- دریائے نیل
- دو سیاہ آنکھیں
- سنہرا لہجہ
- سوندھی مٹی کی یہ صراحی
- فقط ایک پھول!
- کب تم مجھ کو یاد کروگے ؟
- کبھی تم بھی ہم کو ہی سوچنا
- کوئی اگر مر جائے تو
- گہر ساز
- ماں
- ناریل کا پیڑ
- نیلگوں فضاؤں میں۔۔۔
- وہ پیلے پیڑ کیوں روئے
منتخب غزلیں
- آدھی رات کے شاید سپنے جھوٹے تھے
- آسماں کے رنگوں میں رنگ ہے شہابی سا
- ابر بھی جھیل پر برستا ہے
- اپنی صدا سے اپنی شناسائی کھو گئی
- اداسیوں کے عذابوں سے پیار رکھتی ہوں
- اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا
- اُس نے نرم کلیوں کو روند روند پاؤں سے
- اک وراثت کی طرح گاؤں کی گڑ سی باتیں
- ان آنکھوں کو سپنے دکھائے تو ہوتے
- ان بادلوں میں روشن چہرہ ٹھہر گیا ہے
- بسی ہے یاد کوئی آ کے میرے کاجل میں
- بہت آسان تھا اس کی محبت کو دعا کرنا
- بے روح لڑکیوں کا ٹھکانہ بنا ہوا
- پاس منزل کے پہنچ کر کوئی موڑا نہ کرے
- تاش کے گھر بنائے بیٹھی ہوں
- تتلیاں ہی تتلیاں ہیں تم جو میرے سات ہو
- تخلیق کا عمل اسے سچی خوشی لگا
- ترے خیال سے آنکھیں ملانے والی ہوں
- جب بھی خوشبو سا مرے دل نے بکھرنا چاہا
- جسے ڈبو کے گیا تھا حباب پانی میں
- چٹانوں سے وہ ٹکر ا کر ، گری ہے آبشاروں میں
- چھائی ہوئی ہیں یاس کی گہری خموشیاں
- چھلکا چھلکا رہتا ہے ، درد سے بھرا ساون
- خواہشیں ہوش کھوئے جاتی ہیں
- خوبصورت جنتوں میں سانپ چھوڑے رات بھر
- خوشبوؤں سے کلام مت کرنا
- خوشیوں پہ وبالوں کا گماں ہونے لگا ہے
- درد کی نیلی رگیں تہہ سے اُبھر آتی ہیں
- درد کی نیلی رگیں یادوں میں جلنے کے سبب
- دشمنِ جاں کوئی مہمان بناتی ہوں میں
- دل سے مت روٹھ مرے ، دیکھ منا لے اس کو
- دھوپ گر نہ صحرا کے، راز کہہ گئی ہوتی
- رات بھر دیکھے پہاڑوں پہ برستے موسم
- رتجگے کرتی ہوئی پاگل ہوا کچھ ٹھہر جا
- روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
- روشنی سے شبیں چراتی ہوں
- زخم یادوں کے نہیں مٹتے ہیں آسانی سے
- زلف کو صندلی جھونکا جو کبھی کھولے گا
- سب اختیار اس کاہے ، کم اختیار میں
- ستارہ ایک چلو آسماں سے ٹوٹ گیا
- سہیلی خبر کچھ نہیں میں کہاں ہوں
- شام کی گنگناہٹوں میں گم
- صبح کے روپ میں جب دیکھنے جاتی ہوں اسے
- کبھی بدلی سجیلی دھوپ کو آ کر بھگوتی ہے
- کوئی بھی نہ دیوار پر سے پکارے
- کوئی سرگوشیوں سے کیوں بولے
- گر میں دریا کے پا س آؤں گی
- مثالِ برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں
- مرجھائے ہوئے جسم سجا کیوں نہیں دیتے
- مری خامشی میں بھی اعجاز آئے
- مرے خیال کے برعکس، وہ بھی کیسا ہے
- مرے قریب ہی گو زرد شال رکھی ہے
- مسلسل زلزلے ہیں چشمِ نم میں
- ملے گی میری بھی کوئی نشانی چیزوں میں
- منزل کو رہگزر میں کبھی رکھ دیا کرو
- میں چھوٹی سی لڑکی بہت ہی بڑی ہوں
- نرم گرم شاموں کو بھول بھول جاتی ہوں
- ہر سوال اب مرا شِکستہ ہے
- ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں
- ہے ذرا سا سفر ، گزارا کر
- وہ مور پنکھ سے ہر زخم جھلنے جائے گا
