فرحت عباس شاہ
فرحت عباس شاہ کی شاعری تازہ ھوا کی طرح ہے۔ شاید فرحت شاہ کوئی اور کام کرتا ہی نہیں اس نے شاعری کو اپنی سب سے بڑي مصروفیت بنا لیا ہے۔ مصروفیت جب تخلیقی تجربہ بن جاۓ تو اس سے زیادہ کام کی چیز اور کوئی نہيں۔ فرحت عباس اپنی ذاتی زندگی میں بھی ایک کھرا اور دلیر آدمی ہے ادبی حلقوں میں وہ ایک ایسے آدمی کی طرح معروف ھو رہا ہے جو سچ اور حق کے لیے جارحیت پر بھی تل جاتا ہے اور یہ بات یاروں کے منافقانہ طرز عمل کے خلاف ایک سچ احتجاج کا عملی مظاہرہ ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ ہر ہجوم میں ایک مختلف آدمی نظر آتا ہے۔ شاعری میں بھی وہ بہت مختلف اور منفرد ہے۔
منتخب نظمیں
- آ اور میرے وجود میں اُتر
- آنکھوں کے پار چاند
- احساس کو حسیں بنایا
- اذیت
- اسے مجھ سے محبت نہیں تھی
- اک رستہ اک غم
- ایک نظم
- اے عشق مجھے آزاد کرو
- پتے
- پس کائنات
- پھولوں کی قسم
- تنہائی
- جہاں ہم ہیں
- چاند اترا ہے آنکھ کنارے
- خواب
- رات اور دن کی بیابانی
- ساجن سیدھا سادہ
- شاید اس طرح تم سمجھ جاؤ
- صرف تم یاد آتے ہو
- غم کے بیابان میں آ
- ماتم
- مٹی نے تجھے گود لیا
- مجھ سے ناراض نہ ہو
- مجھے تم یاد آتے ہو
- محبت بھی کچھ ایسی
- محبت ذات ہوتی ہے
- محبت کرنے والی لڑکی
- محبت کی ادھوری نظم
- مری جاں
- ہم جیسے آوارہ دل
- ہم مسافر ہیں میری جان
- وابستگی
- ون وے
- ویرانی
- یادداشت
- یہاں تو کچھ بھی ممکن ہے
منتخب غزلیں
- آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
- آنکھ بن جاتی ہے ساون کی گھٹا شام کے بعد
- آنکھ سے روح کا غم ظاہر ہے
- اب دعا، بدعا میں فرق کہاں
- اپنی محبتوں کی خدائی دیا نہ کر
- اپنی وابستگیِ نو سے بھی کٹ کر آتے
- اداس شامیں، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آنا
- اڑتے اڑتے آخر چاند
- اس قدر مل گئی ہے غم کو جِلا
- اسی سے ہوتا ہے ظاہر جو حال درد کا ہے
- اک بار ہی چاہت کی سزا کیوں نہیں دیتے
- اک عمر رہے ساتھ یہ معلوم نہیں تھا
- اک کہانی سبھی نے سنائی مگر ، چاند خاموش تھا
- اک یہی روشنی امکان میں ہے
- ان گنت بے حساب آن بسے
- اے دل رائیگاں اداس اداس
- باہر بھی اپنے جیسی خدائی لگی مجھے
- بچھڑنے کے زمانے آ گئے ہیں
- بچھڑے ہوئے لوگوں کی اک اک بات رلا دیتی ہے
- بس اِک چراغ یہ روشن دِل تباہ میں ہے
- بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا
- بے چین ہوا مت بول پیا کے لہجے میں
- بے سبب ہیں تیری باتیں اے دل
- پربت پربت اڑے پھرے ہے من پنچھی بے چین
- پھر تیرا ذکر دل سنبھال گیا
- پھول بھی ابر بھی مہتاب بھی میرے کب تھے
- پی نہ ملن کو آئے سانول
- ترس گئے نین، جیا بے چین رہے
- تم جو ہوتے تو ہمیں کتنا سہارا ہوتا
- تمھارا پیار میرے چار سو ابھی تک ہے
- تمھارا پیارا چھپ چھپ کر کئی چہرے بدلتا ہے مجھے تم یاد آتے ہو
- تمھارے خواب میرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
- تو نے دیکھا ہے کبھی ایک نظر شام کے بعد
- تو نے کس جا پہ اتارا ہے ابھی
- تیرا وجود تو میرا گمان ڈوب گیا
- جاتے جاتے اس طرح سب کچھ سوالی کر گیا
- جانے کب آن گرے
- جب تیرا انتظار رہتا ہے
- جذبہ و شوق کی روانی میں
- جز عشق کہیں سچا Relation نہیں کوئی
- جسم تپتے پتھروں پر روح صحراؤں میں
- جو اس کے چہرے پہ رنگ حیا ٹھہر جائے
- چاند کے ساتھ میری بات نہ تھی پہلی سی
- چپ نہ رہو بے چین مسافر
- حسن و جمال کے بھی زمانے نہیں رہے
- درد کی سلطنت کا راج ملا
- درد نہ جانے نی مائے
- دکھ ایسا دریا ہے جو
- دل اداس رہتا ہے
- دل روئے زار و زار سجن
- دلوں پہ جبر کی تمام حکمتیں الٹ گئیں
- دن بھی نہ بیتا رات نہ بیتی
- دن مصیبت کے ٹل گئے ہوتے
- دیدۂ نم میں سکوں ڈھونڈتے ہیں
- زخم تحریر سلا لینے دو
- سب راستے دشمن ہوئے اشجار مخالف
- سرد سا ہاتھ ملانے والا
- سمے سمے کی خلش میں ترا ملال رہے
- سوچتے رہنے کی عادت ہو گئی
- شب کے تیرہ سمندر نے کھولا ہے در دن نکلتا نہیں
- شہر ویران کے دروازے سے لگ کر روئے
- ضائع کرتے تھے ملاقاتوں کو
- کبھی سفر تو کبھی شام لے گیا مجھ سے
- کہا میں نے کہاں ہو تم
- کہاں دل قید سے چھوٹا ہوا ہے
- کہو کسی پہ کبھی درد آشکار کیا؟
- کہیں آرزوئے سفر نہیں، کہیں منزلوں کی خبر نہیں
- لاکھ دوری ہو مگر عہد نبھاتے رہنا
- لگ رہا ہے شہر کے آثار سے
- مجھ پر ستم ظریف زمانے کے ساتھ ساتھ
- محبت کا سفر کیسا لگا ہے
- مدتوں بعد میرا سوگ منانے آئے
- موت کا اعتبار کر لیتے
- میری ہر بات کہاں سنتا ہے
- میرے دل کے شام سویرے ہو
- میں پوچھتا ہوں کہ یہ کاروبار کس کا ہے
- میں تیری آنکھوں میں گم اور تو میری بات میں گم
- میں سوچ سکتا نہیں تھا کسی حسین کے ساتھ
- میں نے دیکھا دیوانوں کو شام کے بعد
- ہجر کی رات چھوڑ جاتی ہے
- ہم تجھے شہر میں یوں ڈھونڈتے ہیں
- وہ تم جو چھوڑ گئے تھے دُکھا ہوا میرا دل
- وہ جو ٹل جاتی رہی سر سے بلا شام کے بعد
- وہ کچھ اس طرح بھی تقدیر بنا دیتا ہے
- یہ جو آنسوؤں میں غرور ہے
