فاخرہ بتول
فاخرہ بتول
منتخب نظمیں
- “ٹشو پیپر۔۔۔”
- Deception
- Innocence
- آہٹ
- ابھی تو خواب باقی ہے
- ابھی ٹھہرو………..
- اچانک ۔۔۔۔
- اِسے تم خواب مت سمجھو
- اگر تم باوفا ہوتے ۔۔۔
- اگر تم چاند کی کرنوں کو چھو لیتے
- اگر تم لوٹ آتے تو
- اگر ہم تم سے کہہ دیتے
- انا کی بات جانے دو
- انتہا پسند
- انوکھی مات
- بچوں کا کھیل
- بھلا دیا نا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
- بیاکل روگ
- بے اِعتباری
- پِیت نہ کرنا!
- تری یادوں کی چادر اوڑھ لیتی ہوں
- تمھیں محبت ہوئی کسی سے
- تمہیں بھی یاد تو ہوگا ؟
- تمہیں کیا ہو گیا جاناں!
- چلو اُس شہر جاتے ہیں
- چلو پھر سے بچھڑتے ہیں
- چلو، رستے جُدا کر لیں
- چلے آؤ
- خاتونِ جنت کے نام
- خُدا کو اور بھی کچھ کام کرنے ہیں
- خراج ہے یہ محبتوں کا ۔۔۔
- خوابوں کی راہگزر
- خواہش رہی اپنی۔۔۔۔۔
- خوشیاں کاش غموں سے ہوتیں
- دعوت
- ذرا سی بات تھی
- راجکمار کہاں ملتے ہیں؟
- سفر
- سکھی اک خواب دیکھا ہے!
- سُنو لڑکی!
- شاید یہ محبت ہے
- شہزادی ایسی ہوتی ہے؟
- ضدّی
- طمانچہ
- کہانی آزماتی ہے۔۔۔۔
- کہانی اوڑھ لی میں نے ۔۔۔
- کہانی روٹھ جاتی ہے
- کہو وہ چاند کیسا تھا ؟
- کوئی تو بات ایسی تھی
- کیوں؟
- گُلاب پھر سے مہک اُٹھیں گے
- گواہی ۔۔۔
- مبارک دو مجھے ۔۔۔
- محبت بھول جاؤ تم
- محبت حادثہ ہے
- مُحبّت خاص تحفہ ہے
- محبت خاک کر دے گی
- محبت خواب جیسی ہے
- محبت کم نہیں ہوتی!
- محبت کو نہ جانے دو
- محبت کی نہیں تم نے ۔۔۔
- محبت مت سمجھ لینا
- محبت نام کا جو اک جزیرہ ہے!
- محبتوں کا خیال رکھنا
- مرد بنتا ہے
- مسیحا
- مقروض
- مگر اب نہیں ۔۔۔
- مَیں کون ہوں؟
- میں ماں ہوں
- میں، مرے بعد ۔۔۔
- نہیں کے بعد ۔۔۔۔
- نہیں ہوں رادھا مگر……
- ہجر کا موسم ٹھہر گیا ہے
- ہوا سے بات کرنے دو
- واپسی
- وجدان
- وقت نے گھاؤ بھر جانا تھا
- وہ میرا کون لاگے ہے ؟
- یہ کوئی بات ہے؟
- یہی اب کام کرنا ہے
- یہی فاصلہ جاناں!
- یوں ہی ہو گا
منتخب غزلیں
- آؤ ساجن سے ملواؤں
- آپ جیسے یہاں فنکار بہت ملتے ہیں
- آسمان کی سمت دیکھو جا رہا ہے پھر کوئی
- آنچل کو گھونگٹ کر جانا اب کی بار جو آؤ تم
- احساس اپنے ہونے کا کس پل ہوا نہیں ؟
- ادھ کھلی آنکھوں میں کچھ خواب جگائے اس نے
- اس جنم میں ہو ترا ساتھ ، کہاں ممکن ہے
- اُس کا خیال ذہن پہ چھایا، چلا گیا
- اس نے پوچھا تھا وفا کی بابت
- اس نے پوچھا وچن نبھایا ہے ؟
- اُس نے کہا ، کہ کلیوں کی مُجھ کو تو جُستجو
- اس نے کہا ، کیا چپ چپ رہنا اچھا لگتا ہے؟
- اک کماں اور کوئی تیر بنا دے آ کر
- اکثر ایسا ہو جاتا ہے
- بُت کدے جا کے کسی بت کو بھی سجدہ کرتے
- بتاؤ دل کی بازی میں بھلا کیا بات گہری تھی؟
- بتاؤ کون تھا ، کیسا تھا جس سے سلسلہ ٹھہرا؟
- بعد میں آگ بجھائی بھی تو کیا حاصل
- بھڑکے ہوئے شعلوں کو ہوائیں نہیں دیتے
- بھلا یہ چاند ، تارے، صبح کیوں چہرہ چھپاتے ہیں؟
- بول سکھی ، دل نے کس پل اُکسایا ہو گا ؟
- بول سکھی، کب تک چاہت کو ٹھکرائے گی؟
- بول سکھی، کیوں چاہت کا مقسوم جدائی؟
- بولو ہیں رنگ کتنے زمانے کے اور بھی
- بولو، بھیگی رت میں کوئل کیوں روئے ہے؟
- پوچھا ، تمام خواب کے منظر بھلا دئیے؟
- پوچھا بتاؤ اوج پہ کیوں درد آج ہے؟
- پیار کا گھاؤ سنو، یوں نہیں کھایا کرتے
- پیار کے کھیل میں جیون اپنا ہار گئی تو پھر کیا ہو گا
- تِری آنکھوں میں فصلِ ہجر کیسے بو گیا کوئی؟
- تم سے بچھڑ کے کام یہ کرنا پڑا ہمیں
- تو دل میں کیا تھا تمھارے ،ساجن اگر نہیں تھا؟
- ٹوٹے ہوئے لفظوں میں روانی نہیں ملتی
- جدا رہ کر بھی جی لینا بہت بے کا ر لگتا تھا
- جو خواب حویلی کا ہوا، پھر نہیں آیا
- جو دل میں ہے سچ بتلانا؟
- جو سوا نیزے پہ سورج کے نکلتا ہو گا
- چاند گھٹتا ہی گیا جتنا تجھے یاد کیا
- چاہت بھری کتاب سے آگے نکل گیا
- چپ چپ کیوں ہو ؟
- حدِ امکاں سے پرے خواب نگر ہوتا ہے
- خاک میں گزرا ہوا کل نہیں ڈھونڈا کرتے
- خواب کا شہر ہی مٹا دیتے
- خوابوں کا اِک جہاں مجھے دے گیا کوئی
- خوشبو کے ہاتھ پھول کا پیغام رہ گیا
- دل لگانے کی ابتدا کر دی
- دل اَب بھی اِضطراب سے آگے نہیں گیا
- دل دکھانے کی انتہا کر دی
- دل میں درد محبت کیسے بوتی رہتی ہے؟
- دل نے پھر غم کا راگ چھیڑا ہے
- دھوپ کے روپ میں برسات بھی ہوسکتی تھی
- دیکھا تو سب خیال کے منظر بدل گئے
- دیوار گر رہی ہے سہارا مگر کہاں
- راکھ کا ڈھیر کریدا بھی مگر کچھ نہ بنا
- راکھ کے ڈھیروں میں خوابوں کا دھُواں ڈھونڈتے ہیں
- زندگی خوابِ پریشاں سے زیادہ تو نہیں
- ساجن کو کیا بھولی صُورت بھا سکتی ہے ؟
- ساحل سے ساگر کس پل ٹکرایا ہو گا؟
- ساون کیسے تڑپاتا ہے بول سہیلی بول
- سنو، وہ جب ستاتا ہے
- سہیلی، اب بتا تو نے کہا تھا کچھ بتاؤں گی !
- سوچا ہوتا خواب دکھانے سے پہلے
- شب کے کچھ خواب اجالوں میں بھلے لگتے ہیں
- شبیر تیرے غم میں جو پل بھر کو رو گیا
- صبحیں نہیں رہی ہیں وہ راتیں نہیں رہیں
- طوفان سامنے ہے کنارے کدھر گئے
- عذاب آنکھ میں اترے تو راستہ نہ ملا
- غیر کے ہات میں ہات ہمارا؟
- کانٹوں کا اِک مکان مرے پاس رہ گیا
- کب اُداسی پیام ہوتی ہے؟
- کبھی پڑھ لو سمندر پر لکھا جو نام ہوتا ہے
- کہا اُس نے ، زمانہ درد ہے اور تُم دوا جیسے
- کہا اس نے کہ تم تعبیر ہو اور خواب سا ہوں میں
- کہو تم نے کبھی خوابوں کے رنگوں کو چرایا ہے؟
- کہو فلک ، میرے محبوب جیسا کوئی کہیں تھا؟
- کہو، تم کیوں جھجکتے ہو ؟
- کہو، کیا جل رہا ہے پھر جہاں میں آشیاں اس کا ؟
- کہو، وہ یار کیسا تھا؟
- کیا ہر پل ہر ساعت ہے ؟
- کیوں بھلا درد نے جاگیر بتایا دل کو ؟
- کیوں ساجن کی آس نہیں ہے؟
- گھر چھوڑنے لگے تو کوئی یاد آگیا
- مانگے کے چراغوں سے اُجالا نہیں کرتے
- محبت ذات کے اندر کوئی گُم ذات ہوتی ہے
- منہ سے نکلے گی تو پھر دل میں اتر جائے گی
- میری آنکھوں سے روشنی چھینی
- ہاتھ کا کنگن کاہے اتنا شور مچائے؟
- ہجوم میں مجھ کو تو نے کھڑا کیا بھی تو کیا
- ہماری سوچوں پہ چھا گیا ہے
- ہواؤں سے سَدا لڑنے کی عادت
- وصل کا خواب دکھائے گا ٹھہر جائے گا
- وصل کے روگ بُرے ہوتے ہیں
- وفا کے راہرو کو کیوں سدا برباد دیکھا ہے؟
- وہ جس کا ڈر تھا آخر ہو گیا ناں
- وہ دل میں مرے گھات لگا کر ہی رہے گا
- یہ کیسی بے خودی ہے؟
