ہم خستہ تنوں سے محتسبو : فیض احمد فیض

ہم خستہ تنوں سے محتسبو کیا مال منال کا پوچھتے ہو
جو عُمر سے ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں
دامن میں ہے مشتِ جِگر، ساغر میں ہے خونِ  حسرتِ مَے
لو ہم نے دامن جھاڑ دیا، لو جام اُلٹائے دیتے ہیں
**     قلعہ لاہور

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

فیض احمد فیض کی مزید تخلیقات

فیض احمد فیض کی تمام تخلیقات