گرانیِ شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے : فیض احمد فیض
گرانیِ شبِ ہجراں دو چند کیا کرتے
علاجِ درد ترے درد مند کیا کرتے
وہیں لگی ہے جو نازک مقام تھے دل کے
یہ فرق دستِ عدو کے گزند کیا کرتے
جگہ جگہ پہ تھے ناصح تو کُو بکُو دلبر
اِنھیں پسند، اُنھیں ناپسند کیا کرتے
ہمیں نے روک لیا پنجۂ جنوں ورنہ
ہمیں اسیر یہ کوتہ کمند کیا کرتے
جنھیں خبر تھی کہ شرطِ نوا گری کیا ہے
وہ خوش نوا گلۂ قید و بند کیا کرتے
گلوئے عشق کو دارو رسن پہنچ نہ سکے
تو لوٹ آئے ترے سر بلند ، کیا کرتے !
• — — — — — — — — — — — — — — — •
