دور کتنی ہے ابھی صبح : فیض احمد فیض
ہو نہ ہو اپنے قبیلے کا بھی کوئی لشکر
منتظر ہوگا اندھیرے کی فصیلوں کے اُدھر
ان کو شعلوںکے رجز اپنا پتا تو دیںگے
خیر، ہم تک وہ نہ پہنچیں بھی ، صدا تو دیں گے
دور کتنی ہے ابھی صبح ، بتا تو دیں گے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
