بعد از وقت : فیض احمد فیض

دل کو احساس سے دوچار نہ کر دینا تھا
سازِ خوابیدہ کو بیدار نہ کر دینا تھا

اپنے معصوم تبسم کی فراوانی کو
وسعتِ دید پہ گلبار نہ کر دینا تھا

شوقِ مجبور کو بس ایک جھلک دکھلا کر
واقفِ لذّتِ تکرار نہ کر دینا تھا

چشمِ مشتاق کی خاموش تمناؤں کو
یک بیک مائلِ گفتار نہ کر دینا تھا

جلوۂ حسن کو مستور ہی رہنے دیتے
حسرتِ دل کو گنہگار نہ کر دینا تھا

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

فیض احمد فیض کی مزید تخلیقات

فیض احمد فیض کی تمام تخلیقات