یہ کون آج مِری آنکھ کے حصار میں ہے : امجد اسلام امجد
یہ کون آج مِری آنکھ کے حصار میں ہے
مجھے لگا کہ زمیں میرے اختیار میں ہے
چراغِ رنگِ نوا، اب کہیں سے روشن ہو
سکوتِ شامِ سفر، کب سے انتظار میں ہے
کچھ اِس طرح ہے تری بزم میں یہ دل، جیسے
چراغِ شامِ خزاں، جشنِ نو بہار میں ہے
مِری حیات کے سارے سفر پہ بھاری ہے
وہ ایک پل جو تری چشمِ اعتبار میں ہے
جو اُٹھ رہا ہے کسی بے نشان صحرا میں
نشانِ منزلِ ہستی اُسی غبار میں ہے
ہماری کشتیٔ دل میں بھی اب نہیں وہ زور
تمہارے حسن کا دریا بھی اب اُتار میں ہے
کبھی ہے دُھوپ کبھی ابرِ خوش نما امجد
عجب طرح کا تلون مزاجِ یار میں ہے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
