تُم : امجد اسلام امجد
تُم جس خواب میں آنکھیں کھولو
اُس کا رُوپ امر
تُم جس رنگ کا کپڑا پہنو
وہ موسم کا رنگ
تُم جس پھول کو ہنس کر دیکھو کبھی نہ وہ مرجھائے
تُم جس حرف پہ انگلی رکھ دو
وہ روشن ہو جائے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
