تجدید : امجد اسلام امجد
اب میرے شانے سے لگ کر کس لیے روتی ہو تم
یاد ہے، تم نے کہا تھا
جب نگاہوں میں چمک ہو
لفظ جذبوں کے اثر سے کانپتے ہوں اور تنفس
اس طرح الجھیں کہ جسموں کی تھکن خوشبو بنے
تو وہ گھڑی عہدِ وفا کی ساعتِ نایاب ہے
وہ جو چپکے سے بچھڑ جاتے ہیں لمحے ہیں مسافت
جن کی خاطر پاؤں پر پہرے بٹھاتی ہیں
نگاہیں دُھند کے پروں میں اُن کو ڈھونڈتی ہیں
اور سماعت اُن کی میٹھی نرم آہٹ کے لئے
دامن بچھاتی ہے۔
اور وہ لمحہ بھی تم کو یاد ہو گا
جب ہوائیں سرد تھیں اور شام کے میلے کفن پر
ہاتھ رکھ کر
تم نے لفظوں اور تعلق کے نئے معنی بتائے تھے، کہا تھا
“ہر گھڑی اپنی جگہ پر ساعتِ نایاب ہے
حاصل عمرِ گریزاں ایک بھی لمحہ نہیں
لفظ معنی ہے جو ہر لحظہ نئے چہرے بدلتا ہے
جانے والا وقت سایہ ہے
کہ جب تک جسم ہے یہ آدمی کے ساتھ چلتا ہے
یاد مثلِ نطقِ پاگل ہے کہ اس کے لفظ معنی سے تہی ہیں
یہ جسے تم غم، اذیت، درد، آنسو
دُکھ وغیرہ کہہ رہے ہو
ایک لمحاتی تاثر ہے تمہارا وہم ہے
تم کو میرا مشورہ ہے، بھول جاؤ تم سے اب تک
جو بھی کچھ میں نے کہا ہے
اب میرے شانے سے لگ کر کس لئے روتی ہو تم
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
