شمعِ غزل کی لَو بن جائے، ایسا مصرعہ ہو تو کہو : امجد اسلام امجد
شمعِ غزل کی لَو بن جائے، ایسا مصرعہ ہو تو کہو
اِک اِک حرف میں سوچ کی خوشبو، دل کا اُجالا ہو تو کہو
رازِ محبت کہنے والے لوگ تو لاکھوں ملتے ہیں
رازِ محبت رکھنے والا، ہم سا دیکھا ہو تو کہو!
کون گواہی دے گا اُٹھ کر جھوٹوں کی اس بستی میں
سچ کی قیمت دے سکنے کا تم میں یارا ہو تو کہو!
ویسے تو ہر شخص کے دل میں ایک کہانی ہوتی ہے
ہجر کا لاوا، غم کا سلیقہ، درد کا لہجہ ہو تو کہو
امجد صاحب آپ نے بھی تو دُنیا گھوم کے دیکھی ہے
ایسی آنکھیں ہیں تو بتاؤ! ایسا چہرا ہو تو کہو!
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
