نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جائیں کہیں : امجد اسلام امجد
نکل کے حلقۂ شام و سحر سے جائیں کہیں
زمیں کے ساتھ نہ مل جائیں یہ خلائیں کہیں!
سفر کی رات ہے پچھلی کہانیاں نہ کہو
رُتوں کے ساتھ پلٹتی ہیں کب ہوائیں کہیں!
فضا میں تیرتے رہتے ہیں نقش سے کیا کیا
مجھے تلاش نہ کرتی ہوں یہ بلائیں کہیں!
ہوا ہے تیز، چراغِ وفا کا ذِکر تو کیا
طنابیں خیمۂ جاں کی نہ ٹوٹ جائیں کہیں!
میں اوس بن کے گُلِ حرف پر چمکتا ہوں
نکلنے والا ہے سُورج، مجھے چھپائیں کہیں!
مرے وُجود پہ اُتری ہیں لفظ کی صورت
بھٹک رہی تھیں خلاؤں میں یہ صدائیں کہیں
ہَوا کا لمس ہے پاؤں میں بیڑیوں کی طرح
شفق کی آنچ سے آنکھیں پگھل نہ جائیں کہیں!
رُکا ہوا ہے ستاروں کا کارواں امجد
چراغ اپنے لہو سے ہی اَب جلائیں کہیں
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
