نہ آسماں سے نہ دُشمن کے زور و زَر سے ہُوا : امجد اسلام امجد
نہ آسماں سے نہ دُشمن کے زور و زَر سے ہُوا
یہ معجزہ تو مِرے دَستِ بے ہنر سے ہُوا
قدم اُٹھا ہے تو پاؤں تلے زمیں ہی نہیں
سفر کا رنج ہمیں خواہشِ سفر سے ہوا
میں بھیگ بھیگ گیا آرزو کی بارش میں
وہ عکس عکس میں تقسیم چشمِ تر سے ہوا
سیاہی شب کی نہ چہروں پہ آ گئی ہو کہیں
سحر کا خوف ہمیں آئینوں کے ڈر سے ہوا
کوئی چلے تو زمیں ساتھ ساتھ چلتی ہے
یہ راز ہم پہ عیاں گردِ رہگزر سے ہوا
ترے بدن کی مہک ہی نہ تھی تو کیا رُکتے
گزر ہمارا کئی بار یوں تو گھر سے ہوا
کہاں پہ سُوئے تھے امجد کہاں کھُلیں آنکھیں
گماں قفس کا ہمیں اپنے بام و دَر سے ہوا
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
