مقتل میں بھی اہل جنوں ہیں کیسے غزل خواں، دیکھو تو : امجد اسلام امجد
مقتل میں بھی اہل جنوں ہیں کیسے غزل خواں، دیکھو تو!
ہم پہ پتھر پھینکنے والو، اپنے گریباں، دیکھو تو!
ہم بھی اُڑائیں خاکِ بیاباں، دَشت سے تم گزرو تو سہی
ہم بھی دکھائیں چاکِ گریباں، لیکن جاناں، دیکھو تو
اے تعبیریں کرنے والو، ہستی مانا خواب سہی
اس کی رات میں جاگو تو، یہ خوابِ پریشاں دیکھو تو!
آج ستارے گم صُم ہیں کیوں، چاند ہے کیوں سَودائی سا
آئینے سے بات کرو، اِس بھید کا عنواں دیکھو تو!
کِس کے حُسن کی بستی ہے یہ! کس کے رُوپ کا میلہ ہے!
آنکھ اُٹھا اے حُسنِ زلیخا، یوسفِ کنعاں، دیکھو تو!
جو بھی علاجِ درد کرو، میں حاضر ہوں، منظور مجھے
لیکن اِک شب امجد جی، وہ چہرۂ تاباں، دیکھو تو!
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
