میں بے نوا ہوں ،صاحبِ عزت بنا مجھے : امجد اسلام امجد
میں بے نوا ہوں ،صاحبِ عزت بنا مجھے
اے ارضِ پاک اپنی جبیں پر سجا مجھے
جس پر رقم ہیں نقشِ کفِ پائے رفتگاں
اے عہدِ نا تمام، وہ رستہ دکھا مجھے
میں حرف حرف لوحِ زمانہ پہ درج ہوں
میں کیا ہوں! میرے ہونے کا مطلب سکھا مجھے
یا مجھ کو اپنا چہرۂ منزل نما دکھا
یا قیدِ صبح و شام سے کر دے رہا مجھے
میں موجِ شوقِ خام تھا لیکن ترے طفیل
دریا بھی اپنے سامنے قطرہ لگا مجھے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
