خواب نگر ہے آنکھیں کھولے دیکھ رہا ہوں : امجد اسلام امجد
خواب نگر ہے آنکھیں کھولے دیکھ رہا ہوں
اُس کو اپنی جانب آتے دیکھ رہا ہوں
کس کی آہٹ قریہ قریہ پھیل رہی ہے
دیواروں کے رنگ بدلتے دیکھ رہا ہوں
کون مِرے جادو سے بچ کر جا سکتا ہے!
آئینہ ہوں، سب کے چہرے دیکھ رہا ہوں
دروازے پر تیز ہواؤں کا پہرا ہے
گھر کے اندر چُپ کے سائے دیکھ رہا ہوں
جیسے میرا چہرا میرے دُشمن کا ہو
آئینے میں خود کو ایسے دیکھ رہا ہوں
منظر منظر ویرانی نے جال تنے ہیں
گلشن گلشن بِکھرے پتے دیکھ رہا ہوں
منزل منزل ہَول میں ڈُوبی آوازیں ہیں
رستہ رستہ خوف کے پہرے دیکھ رہا ہوں
شہرِ سنگدلاں میں امجد ہر رستے پر
آوازوں کے پتھر چلتے دیکھ رہا ہوں
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
