کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زر نگار سے خواب دے : امجد اسلام امجد
کہیں بے کنار سے رتجگے، کہیں زر نگار سے خواب دے!
ترا کیا اُصول ہے زندگی؟ مجھے کون اس کا جواب دے!
جو بچھا سکوں ترے واسطے، جو سجا سکیں ترے راستے
مری دسترس میں ستارے رکھ، مری مُٹھیوں کو گلاب دے
یہ جو خواہشوں کا پرند ہے، اسے موسموں سے غرض نہیں
یہ اُڑے گا اپنی ہی موج میں، اِسے آب دے کہ سراب دے!
تجھے چھُو لیا تو بھڑک اُٹھے مرے جسم و جاں میں چراغ سے
اِسی آگ میں مجھے راکھ کر، اسی شعلگی کو شباب دے
کبھی یوں بھی ہو ترے رُوبرو، میں نظر مِلا کے یہ کہہ سکوں
’’مری حسرتوں کو شمار کر، مری خواہشوں کا حساب دے!،،
تری اِک نگاہ کے فیض سے مری کشتِ حرف چمک اُٹھے
مِرا لفظ لفظ ہو کہکشاں مجھے ایک ایسی کتاب دے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
