ہر شخص کی خُوں رنگ قبا ہے کہ نہیں ہے : امجد اسلام امجد
ہر شخص کی خُوں رنگ قبا ہے کہ نہیں ہے
یہ قتل گہِ ِاہلِ وفا ہے کہ نہیں ہے
محرومِ جواب آتی ہے فریاد فلک سے
ان ظلم نصیبوں کا خُدا ہے کہ نہیں ہے
اے قریۂ بے خوابِ تمنا کے مکینو
اس راہ کا اُس کو بھی پتا ہے کہ نہیں ہے
اک ریت کا دریا سا ادھر بھی ہے اُدھر بھی
صحرائے محبت کا سرا ہے کہ نہیں ہے
آنکھوں کے لئے خواب ہیں شبنم کے لئے پھول
ہر چیز یہاں رشتہ بپا ہے کہ نہیں ہے
اک نسل کی تعزیر سہیں دوسری نسلیں
اے منصفِ بر حق یہ ہوا ہے کہ نہیں ہے
بے رنگ ہوئے جاتے ہیں آنکھوں کے جزیرے
طوفان کی یہ آب و ہوا ہے کہ نہیں ہے
امجد جو رکا اس کی صدا پر نہ چلا پھر
انسان کا دل کوہِ ندا ہے کہ نہیں ہے
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
