چہرے پہ مرے زُلف کو پھیلاؤ کسی دن : امجد اسلام امجد
چہرے پہ مرے زُلف کو پھیلاؤ کسی دن
کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن
رازوں کی طرح اُترو مرے دل میں کسی شب
دستک پہ مرے ہاتھ کی کھُل جاؤ کسی دن
پیڑوں کی طرح حُسن کی بارش میں نہا لوں
بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن
خُوشبو کی طرح گزرو مرے دل کی گلی سے
پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن
پھر ہاتھ کو خیرات ملے بندِ قبا کی
پھر لُطفِ شبِ وصل کو دوہراؤ کسی دن
گزریں جو مرے گھر سے تو رُک جائیں ستارے
اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن
میں اپنی ہر اک سانس اُسی رات کو دے دوں
سر رکھ کے مرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن
• — — — — — — — — — — — — — — — •
امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات
- آئینوں میں عکس نہ ہوں تو حیرت رہتی ہے غزل
- آنکھوں سے اک خواب گزرنے والا ہے غزل
- اب تک نہ کھل سکا کہ مرے روبرو ہے کون! غزل
- اب کے سفر ہی اور تھا، اور ہی کچھ سراب تھے غزل
- اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا غزل
- اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے غزل
- اِک سرابِ سیمیا میں رہ گئے غزل
- اک نام کی اُڑتی خوشبو میں اک خواب سفر میں رہتا ہے غزل
- اُلجھن نظم
- اُن جھیل سی گہری آنکھوں نظم
