بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی : امجد اسلام امجد

بستیوں میں اک صدائے بے صدا رہ جائے گی
بام و دَر پہ نقش تحریرِ ہوا رہ جائے گی

آنسوؤں کا رزق ہوں گی بے نتیجہ چاہتیں
خشک ہونٹوں پر لرزتی اِک دُعا رہ جائے گی

رُو برو منظر نہ ہوں تو آئنے کس کام کے
ہم نہیں ہوں گے تو دُنیا گردِ پا رہ جائے گی

خواب کے نشّے میں جھکتی جائے گی چشمِ قمر
رات کی آنکھوں میں پھیلی التجا رہ جائے گی

بے ثمر پیڑوں کو چومیں گے صبا کے سبز لب
دیکھ لینا، یہ خزاں بے دست و پا رہ جائے گی!

  • — — — — — — — — — — — — — — — •  

امجد اسلام امجد کی مزید تخلیقات

امجد اسلام امجد کی تمام تخلیقات